نئی مشکل کوئی درپیش ہر مشکل سے آگے ہے
سفر دیوانگی کا عشق کی منزل سے آگے ہے
کانگریس پارٹی حالانکہ بحران کی کیفیت سے باہر نکلنے کی اپنے طور پر ممکنہ حدتک کوششیں کر رہی ہے لیکن حالات اس کیلئے بہتر ہونے کی بجائے ابتر ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کانگریس اب بھی پانچ ریاستوں میں ہوئے گذشتہ اسمبلی انتخابات میںناکامی کے اثر سے باہر نہیں نکل پائی ہے اور اپنے طور پر آئندہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ابھی سے تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ داخلی طور پر سروے کئے جا رہے ہیں اور نئی حکمت عملی بنانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ سیاسی و انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور کی خدمات حاصل کرنے بلکہ انہیں خود پارٹی میںشامل کرنے کے تعلق سے بھی بات چیت ہو رہی ہے ۔ ایسے میںگجرات اور راجستھان سے شائد کانگریس کیلئے اچھی اطلاعات نہیںہیں۔ گجرات میں گذشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جارحانہ انتخابی مہم کے بعد بی جے پی بڑی مشکل سے اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوئی تھی ۔ کانگریس کی صفوںمیںنوجوان چہروں ہاردک پٹیل ‘ جگنیش میوانی اور دوسروں نے کانگریس میںشمولیت اختیار کرتے ہوئے پارٹی کی مہم کو استحکام بخشا تھا ۔ راہول گاندھی نے بھی مسلسل روزگار اوررافیل کے مسئلہ کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے انہیں جھنجھوڑنے کی کوشش کی تھی ۔ تاہم بی جے پی مقامی سطح پر مفاد پرستوں کو استعمال کرتے ہوئے کسی طرح اپنے اقتدار کو بچانے میںکامیاب رہی تھی ۔ اب جبکہ گجرات میںاسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے کانگریس کیلئے شائد صورتحال مشکل ہوسکتی ہے کیونکہ ہاردک پٹیل اب کچھ ایسے بیانات دینے لگے ہیں جو پارٹی کیلئے اچھی علامت نہیں کہے جاسکتے ۔ ہاردک نے گذشتہ چند دن قبل پارٹی کی ریاستی قیادت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ انہیں پارٹی میں نظرانداز کردیا گیا ہے ۔ اس سے ان کی ناراضگی کا پتہ چلا تھا ۔ تاہم اب وہ بالواسطہ طور پر بعض مسائل پر بی جے پی کی ستائش بھی کر رہے ہیں۔ یہ کانگریس کیلئے زیادہ تشویش کی بات ہوسکتی ہے ۔ حالانکہ ہاردک پٹیل بی جے پی اور خاص طور پر وزیراعظم مودی کے کٹر مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیںلیکن سیاست میںکبھی بھی کچھ بھی بدل سکتا ہے ۔
اسی طرح کانگریس کے اقتدار والی ایک اہم ریاست راجستھان میں بھی پارٹی کو فوری توجہ کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ کل کانگریس کے نوجوان لیڈر سچن پائلٹ نے پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی ہے ۔ سونیا گاندھی سے ان کی بات چیت کی تفصیل تو سامنے نہیںآئی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہسچن پائلٹ نے کانگریس میں اپنے مستقبل اور ذمہ داری کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ سچن پائلٹ پہلے بھی پارٹی اور خاص طور پر ریاستی حکومت سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں۔ وہ بغاوت کے قریب تک پہونچ گئے تھے لیکن کانگریس قائدین راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے انہیں کسی طرح روک لیا تھا ۔ ان سے کچھ وعدے کئے گئے تھے ۔ حالانکہ وہ وعدے کیا تھا وہ پتہ نہیںہے لیکن سچن پائلٹ کانگریس میںسرگرم ہوگئے تھے ۔ وہ کانگریس کا ایک نوجوان اور مقبول چہرہ ہیں۔ کانگریس کو ان کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ پارٹی کا مستقبل ہوسکتے ہیں۔ راجستھان میں ویسے تو ہر پانچ سال میں اقتدار بدلتا ہے ۔ یہ روایت رہی ہے ۔ تاہم سچن پائلٹ جیسے نوجوان قائدین کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے اور انہیںاہم ذمہ داری سونپتے ہوئے عوام میں بھیجا جاسکتا ہے اور عوام کی تائید حاصل کرتے ہوئے ہر پانچسال میں اقتدار تبدیل کرنے کی روایت کو بدلا بھی جاسکتا ہے جیسا کہ اتر پردیش میںہوا ہے ۔
کانگریس کیلئے دونوںہی ریاستیں اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک ریاست میں کانگریس کا اقتدار ہے اور دوسری ریاست میںکانگریس اقتدار کی دعویدار ہے ۔ ایسے میں ان دونوںہی ریاستوں میں پارٹی کیلئے مشکل صورتحال کا پیدا ہوناوہ بھی انتخابات سے چند ماہ قبل ‘ اچھی علامت نہیں کہا جاسکتا ۔ کانگریس جہاںحالات کو بہتر بنانے اور مشکلات سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے اسے ان ریاستوں پر بھی فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کو صورتحال کے استحصال کا موقع ملنے سے قبل حالات کو بہتر بنالیا جانا چاہئے ۔ اس کیلئے سونیا گاندھی ہوںیا راہول گاندھی ہوں یا پرینکا گاندھی ہوںسبھی کو سنجیدگی سے اور پارٹی کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
