ملک کی پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میںکانگریس پارٹی امید کر رہی تھی کہ وہ نہ صرف پنجاب میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگی بلکہ اترکھنڈ اور گوا میں اقتدار پر واپسی کرتے ہوئے اپنی ساکھ کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوگی ۔ تاہم ایسا ہوا کچھ نہیں بلکہ اسے سابق کی بہ نسبت اس بار مزید کم نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ پنجاب میں تو اس کا تقریبا صفایا ہوگیا ہے اور عام آدمی پارٹی نے مثالی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیا ہے ۔ کانگریس کو اترکھنڈ اور گوا میں شاندار کامیابی کی امید تھی تاہم وہاں بھی وہ سابقہ نشستوں سے کم تعداد میں نشستیں حاصل کرپائی ہے ۔اترپردیش میں کانگریس نے پرینکا گاندھی واڈرا کی قیادت میں زوردار مہم چلائی ۔ بہترین انداز میں عوامی مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کی تاہم وہاں کارکنوں کی ووٹ ڈلوانے کی صلاحیتوں کی کمی کے نتیجہ میںاسے سابق کی بہ نسبت اور بھی کم نشستیں ملی ہیں۔ اس کے ارکان اسمبلی کی تعداد سات سے گھٹ کر محض دو ہوگئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کانگریس کے ووٹوں کا تناسب سابق کی بہ نسبت اس بار میںمعمولی سا بڑھا ہے تاہم اس کو نشستوں میں یا ووٹوں میں تبدیل کرنے میں پارٹی کو کامیابی نہیں ملی ہے ۔ اب کانگریس میں خود جو دبی دبی آوازیں نکل رہی تھیں وہ اور بھی زیادہ بلند ہونگی ۔ پارٹکی کی قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ پارٹی کے وجود پر بھی اب سوال پیدا ہونے لگیں گے ۔ خاص طور پر پارٹی میں کوئی مستقل صدر نہیں ہے ۔ پارٹی صرف تین افراد کے گرد گھوم رہی ہے ۔ سونیا گاندھی حالانکہ عبوری صدر ہیں لیکن انہوں نے اس بار پانچ ریاستوں میں کہیں بھی انتخابی مہم نہیں چلائی ۔ راہول گاندھی تنہا اپنے پروگرام طئے کرتے ہیں۔ دوسرے قائدین سے ان کا تال میل اتنا نہیں ہے جتنا اور جیسا ہونا چاہئے ۔ پرینکا گاندھی واڈرا صرف اترپردیش پر توجہ کئے ہوئے تھیں۔ ان تینوں کے علاوہ سینئر اور عوامی چہرہ کہے جانے والے قائدین کی پارٹی میں کمی کا اس بار اوربھی شدت سے احساس ہوا ہے ۔ اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ بہت مشکل صورتحال کہی جاسکتی ہے جس سے ابھرنے کیلئے پارٹی کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
اب جبکہ آئندہ عام پارلیمانی انتخابات کیلئے دو سال کا وقت رہ گیا ہے اور ابھی چند ریاستوں میں انتخابات ہونے باقی ہیں جن میں کرناٹک ‘ گجرات ‘ راجستھان ‘ مدھیہ پردیش وغیرہ شامل ہیں تو کانگریس پارٹی کیلئے کم از کم ایک اور موقع ضرور دستیاب ہے کہ وہ ان میں اپنی کارکردگی دکھائے ۔ ان ریاستوں میں اگر کانگریس کچھ بہتر مظاہرہ کرپاتی ہے تو پھر عام انتخابات میں پارٹی کیلئے کچھ امید پیدا ہوسکتی ہے ۔ اگر ان ریاستوں میں بھی کانگریس کو شکست ہوتی ہے اور راجستھان میں اس کا اقتدار چھن جاتا ہے تو پھر آئندہ پارلیمانی انتخابات میں اس کے امکانات اور بھی کم ہوجائیں گے اور بی جے پی کیلئے اقتدار کا سفر اور بھی آسان ہو جائیگا ۔ عام انتخابات سے قبل اسمبلی انتخابات میں بہتر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ کانگریس پارٹی حقیقت پسندانہ جائزہ لے ۔ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اس کے جو سینئر قائدین ایک طرح سے ناراض ہیں ان کو اعتماد میں لیا جائے ۔ ان سے صلاح و مشورہ کرتے ہوئے پارٹی میں نئی جان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کیڈر کے حوصلے جو مسلسل پست ہوتے جا رہے ہیں ان میں حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔ عوام کی نبض کو سمجھا جائے ۔ عوام کو درپیش مسائل کو مزید شد ت اور جارحیت کے ساتھ موضوع بحث بنایا جائے ۔ حکومت کی مخالفت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے ۔عوام کو سرکاری پالیسیوں سے ہونے والے نقصانات سے واقف کروانے جامع میکانزم تیار کیا جائے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام سے رابطوں کو بحال کیا جائے ۔ عوام کی تائید کو ووٹ میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی بنائی جائے ۔ ماہرین سے رائے حاصل کی جائے ۔ ان کے مشوروں کے مطابق پارٹی کی ساکھ کو ڈھالنے کی کوشش کی جائے ۔ پارٹی کیلئے مستقل صدر کا انتخاب عمل میں لایا جائے ۔ کئی اہم قائدین کو موقع دیا جائے ۔ انہیں مختلف ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ ان میں بھی اعتماد پیدا کیا جائے تب کہیں جا کر پارٹی انتخابی سیاست میں اپنا مظاہرہ بہتر بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ اگر مزید ریاستوں کے انتخابات میں پارٹی کو شکست ہوجاتی ہے تو پھر عام انتخابات میں کوئی امید رکھنا فضول ہی ہوگا ۔