ہے اب تو سارے مراسم کا انحصار اس پر
کس کی ذات سے ہم کو مفاد کتنا ہے
گجرات کانگریس کے لیڈر ہاردک پٹیل نے بالآخر پارٹی سے علیحدگی کے بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ چند ماہ قبل سے ہاردک پٹیل پارٹی سے ناراض دکھائی دے رہے تھے اور ان کی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی تھیں۔ وقفہ وقفہ سے وہ طنز بھی کر رہے تھے ۔ بی جے پی کے تعلق سے ان کا رویہ نرم ہوتا جا رہا تھا اور یہ اشارے مل رہے تھے کہ وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کے مزاج اکھڑے اکھڑے ہوگئے تھے ۔ جس وقت جودھپور میں کانگریس کا چنتن شیور منعقد ہوا تھا اس وقت ہاردک پٹیل کو امید تھی کہ وہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اس ملاقات میں وہ اپنی شکایات سے راہول گاندھی کو واقف کروائیں گے ۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکا اور راہول گاندھی نے ہاردک سے علیحدہ ملاقات کرنے سے گریز ہی کیا تھا ۔ چنتن شیور کے بعد سے ہاردک پٹیل پوری طرح سے خاموش ہوگئے تھے ۔ دو دن قبل انہوں نے کانگریس سے استعفی پیش کردیا تھا اور آج بالآخر وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ کانگریس کیلئے یہ تشویش کی بات ہے ۔ کانگریس سے ایک کے بعد دیگرے کئی قائدین مستعفی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر ریاست میں کانگریس کیلئے صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بگڑتی جا رہی ہے ۔ وقفہ وقفہ سے سینئر قائدین ناراضگی کا اظہار کرتے جا رہے ہیں اور یکے بعد دیگر ان کی بھی پارٹی سے دوریوں کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کا کوئی علاج کانگریس پاس نظر نہیں آتا ۔ کانگریس پارٹی اپنی ہی تباہی کا تماشہ بے بسی کے ساتھ دیکھنے پر مجبور ہوتی جا رہی ہے ۔ پارٹی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے جتنی بھی کوششیں کر رہی ہے وہ سب بے کار ثابت ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے نقصانات کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ 2024 کے پارلیمانی انتخابات اور اس سے قبل ہونے والے مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پارٹی کیلئے کوئی اچھے نتائج برآمد کرسکیں اس کیلئے پارٹی کوشش کر رہی ہے لیکن حالات اس کے قابو میں آتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ایسے میں پارٹی بے بس ہی نظر آتی ہے ۔
کانگریس کیلئے جو مسئلہ درپیش ہے ایسا لگتا ہے کہ مرض کی تشخیص میں پارٹی پوری طرح سے ناکام ہوتی جا رہی ہے یا پھر وہ حقیقت کو قبول کرنے کے موقف میں بھی نہیں رہ گئی ہے ۔ صرف دو معیادوں کیلئے اقتدار سے باہر رہنے پر کانگریس کا جو حال ہو رہا ہے وہ دوسری جماعتوں کیلئے بھی عبرت کا باعث ہوسکتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے پارٹی کو بتدریج ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے اور پارٹی اس سے خود کو بچانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے ۔ کانگریس میں نیچے سے اوپر تک بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور یہ تبدیلیاں بھی منظم انداز میں ہونی چاہئیں۔ بے ہنگم انداز میں کوئی فیصلے کئے جاتے ہیں تو ان کا خمیازہ بھی پارٹی کو بھگتنا پڑسکتا ہے ۔ جو تجاویز پیش کی جا رہی ہیں ان کو قبول کرنے میں کانگریس کا پس و پیش بھی پارٹی کی ابتر صورتحال کا باعث ہے ۔ جو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ان میںتاخیر کی جا رہی ہے اور کچھ متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش سے پارٹی کو نقصان کا سامنا ہی کرنا پڑ رہا ہے ۔ گجرات میں بی جے پی دو دہوں سے زیادہ عرصہ سے اقتدار میں ہے اور گذشتہ اسمبلی انتخابات میں راہول گاندھی کی جارحانہ مہم کے نتیجہ میں کانگریس اقتدار سے بی جے پی کو بیدخل کرنے کے قریب پہونچ گئی تھی ۔ لیکن بی جے پی کے آلہ کار عناصر اور مفاد پرست ایجنٹوں نے کانگریس کو نقصان پہونچاتے ہوئے بی جے پی کے اقتدار کا راستہ صاف کردیا ۔ چند ماہ میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ہاردک پٹیل نے پارٹی چھور دی ۔
موجودہ صورتحال بھی کانگریس کیلئے آسان نہیں دکھائی دے رہی ہے ۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ بی جے پی کی جانب سے ہندوتوا مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ سماج میں نزاعی مسائل کو بھڑکاتے ہوئے عوام میں نفرت کا بیج شدت سے بویا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس کو اس کی ہی صفوں سے کمزور کرنے کی کوششیں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اس صورتحال میں کانگریس کو واقعی سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے ۔ جو مسلسل انحراف ہو رہے ہیں ان کو روکا جاسکے اور پارٹی کے انتخابی امکانات کو پوری طرح نہ صحیح کچھ حد تک ہی صحیح بہتر بنانے میں مدد مل سکے ۔
