ایک ایسے وقت جبکہ ملک میں آئندہ سال کے اوائل میں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونگے اور اس کے بعد آئندہ عام انتخابات کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی کانگریس اور ترنمول کانگریس میں دوریاں اور اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج ملک میں کوئی بھی سیاسی جماعت اس موقف میں نہیں ہے کہ وہ سارے ملک میں تنہا بی جے پی کا مقابلہ کرسکے ۔ ریاستی سطح پر کچھ علاقائی جماعتوں نے ابھی تک بی جے پی کو روکے رکھا ہے اور ان میں سب سے آگے مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس ہے جس کی سربراہ ممتابنرجی ہیں۔ کانگریس اور ترنمول کے مابین مغربی بنگال میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے وقت ہی اتحاد نہیں ہوپایا تھا حالانکہ اس وقت کچھ مواقع پیدا ہوئے ضرور تھے ۔ ترنمول کانگریس نے اتحاد کیلئے امکان برقرار رہنے کی بات بھی کہی تھی لیکن کانگریس نے ایک بار پھر بنگال میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تھا اور ایک طرح سے عظیم اتحاد تشکیل دیا تھا جو بری طرح سے ناکام ہوگیا ۔ ریاست میں کمیونسٹ جماعتوں اور عظیم اتحاد کو ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں مل سکی تھی ۔ بنگال کے نتائج کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ ممتابنرجی کی قیادت میں اپوز یشن جماعتوں میں اتحاد کی کوششیں تیز ہوجائیں گی ۔ این سی پی سربراہ شرد پوار نے بھی ممتابنرجی کی قیادت میں اتحاد کی بات کہی تھی ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے اور دوریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ ممتابنرجی نے آج گوا میںپارٹی کی انتخابی مہم کے حصے کے طور پر ایک خطاب میں کہا کہ کانگریس کی وجہ سے نریندر مودی طاقتور ہو رہے ہیں۔ کانگریس کی جانب مسلسل نریندر مودی کو نشانہ بنائے جانے سے بی جے پی کی ٹی آر پی بڑھ رہی ہے ۔ ممتابنرجی اب بنگال سے باہر تریپورہ اور گوا میں بھی انتخابات میں قسمت آزائی کی تیار ی کر رہی ہیں اور گوا میں انہوں نے کانگریس کے سابق چیف منسٹر لوئی زنہو فلئیرو کو اپنی پارٹی میں کامیابی کے ساتھ شامل کرلیا ہے ۔ اس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ کچھ ریاستوں میں کانگریس بالکل بے اثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ وہاں اس کا سیاسی وجود نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے ۔ ایسے میں کانگریس کو علاقائی جماعتوں کے سہارے قبول کرنے تیار ہونا پڑیگا ۔ جب تک وہ حقیقت کو تسلیم نہیں کرلیتی اس وقت تک اس کو اپنے آپ کو سیاسی اعتبار سے دوبارہ بحال کرنے میں کامیابی نہیں مل سکتی ۔ بہار میں کانگریس کے آر جے ڈی کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے لگے ہیں۔ دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناو میں کانگریس نے آر جے ڈی کی تائید کرنے کی بجائے خود مقابلہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور سے بہار میں بھی آر جے ڈی ۔ کانگریس تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے میں کانگریس کو بھی اپنی حلیف علاقائی جماعتوں کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا ۔ ریاستی سطح پر مضبوط علاقائی جماعتوں کو بڑا رول دینے سے کانگریس کو گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ علاقائی جماعتوں کے سہارے کانگریس بتدریج ان ریاستوں میں اپنے آپ کو دوبارہ سرگرم کرنے میں کامیاب بھی ہوسکتی ہے ۔ تاہم جہاں تک علاقائی جماعتوں کا سوال ہے انہیں بھی کانگریس کو پوری طرح سے نظر انداز کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ شیوسینا کے رکن راجیہ سبھا سنجے راوت کا استدلال تھا کہ مرکز میں کوئی بھی حکومت کانگریس کی تائید کے بغیر قائم نہیںہوسکتی ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ علاقائی جماعتوں کی جہاں اپنی اہمیت ہے وہیں قومی سطح پر آج بھی کمزور ہی صحیح لیکن کانگریس کا وجود برقرار ہے ۔ کچھ ریاستوں میں کانگریس مستحکم بھی ہے ۔
کانگریس کو جہاں علاقائی جماعتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اور ان کی طاقت کا احترام کرتے ہوئے چھوٹا رول قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے وہیں علاقائی جماعتوں کو بھی اپنی ریاستوں کے آگے کانگریس کے بڑے رول سے انکار نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بات سبھی کو ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ مخالف بی جے پی جماعتوں میں انتشار ہوگا تو اس کا فائدہ بی جے پی ہی کو ہوگا ۔ جس طرح کانگریس کی وجہ سے بی جے پی مستحکم ہو رہی ہے اسی طرح علاقائی جماعتوں کی ضد کی وجہ سے بھی بی جے پی کو موقع مل سکتا ہے ۔ سبھی جماعتوں کو ایک دوسری کی طاقت کے حقیقی اعتراف اور اس کے مطابق حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا ۔
مہنگائی ‘ اپوزیشن حرکت میں آئے
ملک بھر میں مہنگائی اپنی حدوں کو چھونے لگی ہے ۔ پٹرول 120 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 110 روپئے فی لیٹر کے بھی پار ہوگیا ہے ۔ پکوان گیس کی قیمت بھی بہت جلد 1000 روپئے کے پار ہوسکتی ہے ۔ اس کے اثرات روز مرہ کے استعمال کی تقریبا ہر شئے مہنگی ہونے لگی ہے ۔ سارے کا سارا بوجھ عوام پر عائد ہوتا جا رہا ہے اور حکومت مزے سے اپنے خزانے بھرنے اور اپنے حاشیہ بردار کارپوریٹس کو رعایتوںاور راحتیں فراہم کرنے میں مصروف ہے ۔ حکومت تو مہنگائی کے مسئلہ پر کچھ بھی کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی بلکہ وہ تو عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرنے کے مزید منصوبے تیار کئے بیٹھی ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حرکت میں آئیں۔ عوام میں اس تعلق سے شعور بیدار کریں اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کریں۔ عوام کے درمیان پہونچ کر مہنگائی پر صدائے احتجاج بلند کیا جائے ۔ حکومت پر دباؤ بنایا جائے کہ وہ عوام پر بوجھ عائد کرنے کی بجائے انہیں راحت دینے کے اقدامات کرے ۔ صرف بیان بازیوں یا مباحث سے کچھ ہونے والا نہیں ہے جب تک اپوزیشن حرکت میں آکر عوام کو ساتھ لے کر احتجاج نہیں کرتی حکومت پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے۔
