کاکروچ جنتا پارٹی کا جنتر منتر پر زبردست مظاہرہ ۔ ہزاروں طلباء و نوجوانوں کی شرکت

,

   

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفی کا مطالبہ ۔ پانچ دن کی مہلت ۔ پڑوسی ریاستوں کے نوجوانوں کی شرکت ۔ ہندو تنظیموں نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی

نئی دہلی 6 جون ( ایجنسیز ) کاکروچ جنتا پارٹی نے آن لائین پلیٹ فارم سے آگے بڑھتے ہوئے آج میدان پر اپنے قدم اتارے اور تعلیم کے شعبہ میں جاری بد عنوانیوں کے خاتمہ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کیلئے دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کی جو بوسٹن امریکہ سے آج صبح دہلی پہونچے ۔ ابھیجیت ڈپکے کی اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور نوجوان دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوگئے ۔ ڈپکے کی آمد کے موقع پر ائرپورٹ پر بھی سینکروں نوجوانوںاور طلباء کا ہجوم دیکھا گیا ۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے وسیع تر بندوبست کیا گیا تھا ۔ کئی پرتی سکیوریٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ ابتداء میںجنتر منتر پہونچنے والے تمام راستوں پر رکاوٹیںکھڑی کی گئی تھیں۔ ابھیجیت ڈپکے کی آمد کے ساتھ ہی وہ نوجوانوں کے ساتھ جلوس کی شکل میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہونچے اور جنتر منتر پر احتجاج کی درخواست پیش کی ۔ پولیس نے انہیں احتجاج کی اجازت دیدی جس کے بعد جنتر منتر پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور نوجوانوں نے طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ اس احتجاج میں شرکت کیلئے لیہہ کے سماجی جہد کار سونم وانگ چوک بھی پہونچ گئے تھے اور انہوں نے ابھیجیت ڈپکے سے ملاقات بھی کی ۔ وہ احتجاج میں شامل رہے ۔ احتجاج میں شمولیت سے قبل وانگ چوک نے نوجوانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ساتھ گلاب کا پھول لائیں اور دوران احتجاج سکیوریٹی اہلکاروں کو پیش کریں ۔ خود سونم وانگ چوک کے ہاتھ میں بھی گلاب کا پھول تھا ۔ جیسے جیسے وقت گذرتا گیا جنتر منتر پر طلباء اور نوجوانوں کی بھیڑ میں زبردست اضافہ ہونے لگا تھا ۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلباء اور نوجوان اس احتجاج میں شامل ہونے جنتر منتر پہونچے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تعلیمی نظام کی خرابیوں سے متاثر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس میں تبدیلی لائی جائے ۔ طلباء نے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان امتحانی پرچوں کے افشاء کے معاملہ پر اپنا استعفی پیش کریں۔ ابھیجیت ڈپکے نے احتجاجیوں سے خطاب کیا اور اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومتوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور جب تک دھرمیندر پردھان استعفی پیش نہیں کریں گے اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا ۔ طلباء اور نوجوانوں کے گروپس مختلف مقامات پر زبردست نعرے بازی کر رہے تھے ۔ احتجاجیوں نے حکومت کو جھنجھوڑنے والے نغمے بھی گائے اور کہا کہ ملک میں 25 کروڑ نوجوان بیروزگار ہیں اور اس کیلئے کون ذمہ دار ہے ؟ ۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ داری بھی حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے ۔ کچھ طلباء اور نوجوانوں کے والدین بھی احتجاج میں شرکت کرنے کیلئے پڑوسی ریاستوں سے دہلی پہونچے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے تعلق سے فکرمند ہیں اور وہ نظام تعلیم کی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ احتجاجیوں نے ملک کے گودی میڈیا کے خلاف بھی نعرے لگائے اور کہا کہ گودی میڈیا چور ہے ۔ بعض مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا میڈیا اتنا دلال میڈیا ہوگیا ہے کہ اس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔ پولیس کی جانب سے احتجاجیوں کو آخری لمحات میں منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا ۔ چھ نوجوانوںکو حراست میں لیا گیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتیاطی طور پر یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ ابھیجیت ڈپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر استعفی نہیں دیا گیا تو احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کا احتجاج صرف ایک ٹریلر تھا اور اس میں بعد میں مزید شدت پیدا ہوگی ۔ڈپکے نے الزام عائد کیا کہ سی جے پی کے حامیوں اور اس سے وابستگی رکھنے والوں کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹس کو ین تو ہیک کیا جا رہا ہے یا انہیں بلاک کیا جا رہا ہے ۔ یہ حکمت عملی کام آنے والی نہیں ہے ۔ دہلی کے احتجاج کے بعد ڈپکے اپنے والدین سے ملاقات کیلئے اپنے آبائی شہر روانہ ہوگئے ۔ نوجوانوں کے احتجاج کے دوران کچھ ہندو تنظیموں کے کارکن بھی مخالف کاکروچ جنتا پارٹی مظاہرہ کرنے کی کوشش کرنے لگے اور انہوں نے کچھ مذہبی نعرے بھی لگائے تاہم برہم نوجوانوں نے انہیںوہاں سے بھگادیا ۔