اسلامی تاریخ کے اُفق پر بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی علمی روشنی صدیوں بعد بھی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے محض اپنے عہد ہی کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے فکری و عملی سفر کو بھی سمت عطا کی۔ فقہِ اسلامی کی دنیا میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُنہی درخشاں اور آفاقی شخصیات میں ہوتا ہے، جن کی علمی عظمت، فقہی بصیرت اور اجتہادی شان آج بھی اُمتِ مسلمہ کے لئے مشعلِ راہ ہے۔حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ عالمِ اسلام کے ایک جلیل القدر فقیہ، مجتہدِ مطلق اور امامُ الائمہ تھے۔ آپ نے فقہِ اسلامی کو محض مسائل کا مجموعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے مضبوط اُصولوں، منظم قواعد اور گہرے فکری توازن کے ساتھ ایک مستقل علمی فن کی صورت عطا کی۔ آپ کا مرتب کردہ فقہی نظام ایسا ہمہ گیر اور قابلِ عمل ہے کہ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں کروڑوں مسلمان اسی کی روشنی میں اپنی دینی و معاشرتی زندگی گزار رہے ہیں۔ امام اعظم کا تعلق تابعین کے اس بابرکت طبقے سے ہے جنہیں شرفِ زیارتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حاصل ہوا۔ آپ نے کوفہ، حرمین شریفین اور بصرہ جیسے عظیم علمی مراکز میں ہزاروں مشائخ و اساتذہ سے علمِ حدیث، فقہ اور تفسیر حاصل کی۔ غیر معمولی ذہانت، قوی حافظہ اور گہری فکری بصیرت نے آپ کو اپنے ہم عصروں میں ایک ممتاز مقام عطا کیا۔آپ کے حلقۂ درس سے ایسے نابغۂ روزگار علماء تیار ہوئے جنہوں نے فقہِ حنفی کو باضابطہ تدوین اور عالمگیر اشاعت کا مقام دلایا، جن میں امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن الشیبانی جیسے جلیل القدر فقہاء سرفہرست ہیں۔ انہی شاگردوں کی علمی کاوشوں کے ذریعے فقہِ حنفی اسلامی دنیا کے طول و عرض میں پھیلی اور مسلم معاشروں کا عملی قانون بنی۔حضرت امام اعظم کا طریقۂ اجتہاد کتابُ اللہ، سنت رسول ﷺ، آثارِ صحابہ کرام اور اصولِ عقلیہ پر قائم تھا۔ آپ کا اجتہاد نہ انتہاپسندی کا شکار تھا اور نہ ہی بے جا آسانی پر مبنی، بلکہ توازن، سہولت اور حکمت کا حسین امتزاج تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اسلامی سلطنتوں نے آپ کے فقہی اصولوں کو اپنے عدالتی اور قانونی نظام کی بنیاد بنایا، اور آج بھی عالمِ اسلام کی اکثریت فقہِ حنفی پر اعتماد کرتی ہے۔امام اعظم کی حیاتِ مبارکہ عبادت، زہد و تقویٰ اور خدمتِ دین کا عملی نمونہ تھی۔ دن کے اوقات میں درس و تدریس، افتاء اور عوامی رہنمائی، جبکہ راتوں کو قیام، تلاوت اور مناجات یہی آپ کا معمول تھا۔ بغداد میں آپ کے وصال کے موقع پر بار بار نمازِ جنازہ کا ادا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ نہ صرف علماء بلکہ عام مسلمانوں کے دلوں پر بھی گہرا اثر رکھتے تھے۔آخر میں، موجودہ دور کے فکری انتشار اور دینی ابہام کے ماحول میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات کا مطالعہ ہمیں علمی دیانت، فکری اعتدال، اجتہادی بصیرت اور دینی استقامت کا درس دیتا ہے اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی آج اُمت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔