کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی

,

   

کابل : افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیرمین عبداللہ عبداللہ نے طالبان کے سیاسی دفتر کے اراکین سے ملاقات کی اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کیلئے ایک جامع سیاسی حل پر تبادلہ خیال کیا۔کرزئی اور عبداللہ نے گزشتہ روز کابل میں اپنی قیامگاہ پر مولوی شہاب الدین ،دلاوری دلاور ، عبدالسلام حنفی ، مولوی خیر اللہ خیرخواہ اور طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن عبدالرحمن فدا سے ملاقات کی۔عبداللہ کے دفتر نے بتایاکہ دونوں فریقوں نے موجودہ سلامتی اور سیاسی پیشرفت اور ملک کے مستقبل کیلئے جامع سیاسی حل کے بارے میں غوروخوض کیا۔ عبداللہ کے دفتر نے ملاقات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کئے۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے عہدیدار ملا عبدالسلام حنفی اور مولوی خیر اللہ خیرخواہ نے حزب اسلامی پارٹی کے رہنما گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کی ہے۔ کرزئی اور عبداللہ نے کابل کیلئے طالبان کے قائم مقام گورنر عبدالرحمن منصور سے بھی ملاقات کی ہے ۔

اشرف غنی اور امراللہ صالح سمیت سب کیلئے عام معافی: حقانی

کابل :افغان طالبان کے مرکزی رہنما خلیل الرحمان حقانی کا کہنا ہے کہ اب کسی سے دشمنی نہیں ہے، اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمد اللہ محب سمیت سب کے لیے عام معافی ہے۔جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان رہنما خلیل الرحمان حقانی کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سے دشمنی میں ہم نے پہل نہیں کی تھی اور اب بھی نہیں کر رہے، امریکہ نے ہمارے مذہب اور ملک سے زیادتی کی تو مجبور ہو کر بندوق اٹھائی۔خلیل الرحمان حقانی نے کہا کہ ہماری دشمنی کی وجہ نظام کی تبدیلی تھا اور اب نظام تبدیل ہو چکا ہے، اب اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمد اللہ محب سمیت سب کے لیے عام معافی ہے، اشرف غنی، جرنیل اور سابقہ حکومتی عہدیداروں سمیت جو بھی افغانستان آنا چاہے آسکتا ہے، کسی سے بھی انتقام نہیں لیا جائے گا، تاجک، بلوچ، ہزارہ، پشتون اور ہم سب بھائی ہیں۔انٹرویو میں خلیل الرحمان حقانی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا ایک منظم نظام بنے گا جس میں تمام اقوام، ساری تنظیمیں اور اہل تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوں گے، قوم کو متحد کرنے والوں کو حکومت میں شامل کیا جائے گا۔طالبان رہنما نے افغانستان چھوڑ کر جانے والوں کو پیغام دیا کہ باہر نہ جائیں، یہیں رہ کر اپنے ملک کی خدمت کریں، دشمن آپ کو ڈراتے ہیں کہ امارات اسلامی آپ کو سزائیں دیں گے، اسلام امن کا دین ہے، یہاں سب کو برابر حقوق ملیں گے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔خلیل الرحمان حقانی کا کہنا تھا کہ تمام ممالک اور مسلمان ملکوں کے لیے پیغام ہے اپنے لوگوں کو حقوق دیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، جن لوگوں کے جو حقوق بنتے ہیں وہ انہیں فراہم کریں۔