کرناٹک اسمبلی الیکشن : ہائی وولٹیج انتخابی مہم کا آج اختتام ‘ چہارشنبہ کو ووٹنگ

,

   

آخری لمحات تک ووٹرس کو راغب کرنے بی جے پی ‘ کانگریس اور جے ڈی ایس کی کوشش

. بنگلورو : کرناٹک اسمبلی الیکشن کیلئے انتخابی مہم کا پیر 8مئی کی شام اختتام عمل میں آئے گا ۔ریاست کی 224نشستوں کیلئے چہارشنبہ 19مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ 13مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔ریاست کی تین بڑی سیاسی جماعتوں بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی (ایس) ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اپنی آخری کوشش میں مصروف ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں، سیاسی جماعتوں نے رائے دہندوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ریاست بھر میں متعدد ریالیاں اور جلسہ عام کا اہتمام کیا ہے۔ اس بار، بی جے پی متبادل حکومتوں کے 38 سال پرانے طرز کو توڑنے اور اپنے جنوبی قلعے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہیں دوسری طرف، کانگریس دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے بھرپور کوشش میں لگی ہوئی ہے کیونکہ کرناٹک میں دوبارہ اقتدار حاصل ہونے سے پارٹی کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی قیادت میں جے ڈی (ایس) کو انتخابی مہم میں اپنی پوری طاقت لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ اپنے طور پر حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔ کرناٹک کی 224 رکنی اسمبلی میں، پارٹیاں ‘مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت’ کا نشانہ رکھتی ہیں۔ امیت شاہ اور بی جے پی کے سربراہ جے پی نڈا نے کرناٹک کے کئی اہم اضلاع اور مقامات پر ریالیاں کیں اور عوام کو خطاب کرتے ہوئے پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی عوام سے اپیل کی ہے۔ دوسری طرف کانگریس نے راہول گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، اور اے آئی سی سی کے صدر ملکارجن کھرگے کے ساتھ اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ طویل عرصہ کے بعد سونیا گاندھی نے بھی ہفتہ کو انتخابی مہم میں حصہ لیا اور ریالی سے خطاب کیا۔راہول گاندھی کے علاوہ پرینکا گاندھی نے بھی پارٹی امیدواروں کیلئے انتخابی مہم میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا اور کئی ریالیوں سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت پرکمیشن والی حکومت کا ا لزام عائد کیا ۔ اپوزیشن خاص طور پر کانگریس کرناٹک کی حکومت کو 40فیصد کمیشن والی سرکار قرار دے رہی ہے ۔جے ڈی ایس کی مہم صرف اس کے لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی نے چلائی ۔