راہول اور پرینکا کی محنت کامیاب! مودی ۔شاہ جوڑی فرقہ پرستی کے شعلے نہیں بھڑکاسکی۔ کانگریس کو مسلمانوں اور لنگایت کی تائید
حیدرآباد ۔ 8مئی ( سیاست نیوز) کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے لئے طوفانی انتخابی مہم آج اختتام کو پہنچی ۔ تازہ لوک پول انتخابی سروے کے علاوہ اکثر سروے ایجنسیوں نے کانگریس کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو یقینی قرار دیا ۔ مسلم تحفظات کو منسوخ کرنے کا بی جے پی کو کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیا ۔ لنگایت طبقہ نے بھی کانگریس کی تائید کرنے کا اعلان کردیا ۔ چہارشنبہ 10 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مخالف بی جے پی حالات کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی خود میدان میں کود پڑے تھے۔ 10دن تک کرناٹک کا دورہ کیا ، 18 انتخابی جلسوں اور 6بڑے روڈ شو کا انعقاد کیا مگر سروے کے مطابق وہ بھی بی جے پی کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے میں ناکام رہے ہیں ۔چیف منسٹر بسوا راج بومئی حکومت سے کرناٹک کے عوام سخت ناراض ہیں جس کی وجہ سے کانگریس کی کامیابی کو بیشتر سروے اداروں نے یقینی قرار دیا ہے ۔ دوسرے مقام پر بی جے پی اور تیسرے مقام پر جے ڈی ایس رہنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ چند سروے نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس مرتبہ حکومت تشکیل دینے کیلئے کانگریس پارٹی کو جے ڈی ایس کی تائید کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ خود کانگریس پارٹی اپے بل بوتے پر تنہا حکومت تشکیل دینے کے موقف میں ہوگی ۔ کانگریس اور بی جے پی نے کانٹے کی ٹکر پر انتخابی مہم چلائی ہے جس کا پیر کو اختتام ہوگیا ہے ۔ ایک ہی مرحلہ میں 10مئی کو تمام 224 اسمبلی حلقوں کیلئے رائے دہی ہوگی ۔ کرناٹک میں لنگایت اور وکلیگاس دو بڑے سماجی گروپس تصور کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے لنگایت طویل عرصہ سے بی جے پی کی تائید و حمایت کررہا ہے ۔ لنگایت طبقہ کے 9 چیف منسٹرس رہے ہیں ۔ بی جے پی قیادت نے لنگایت طبقہ کے مضبوط قائد یدی یورپا کو ہٹاکر ان کی جگہ اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بومئی کو چیف منسٹر بنایا ہے جنہوں نے مسلمانوں کے 4 فیصد مسلم تحفظات کو منسوخ کرتے ہوئے 2فیصد لنگایت طبقہ اور 2فیصد وکلیگاس طبقہ کو تحفظات فراہم کردیا ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کو اے ڈبلیو ایس کوٹہ میں شامل کردیا ۔ اس کے بعد اسمبلی کے 224 حلقوں میں 68 حلقوں پر لنگایت طبقہ کے امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے اور ساتھ ہی وکلیگاس طبقہ کے 42 امیدواروں کو ٹکٹ دیاہے اور او بی سی طبقہ کے 28 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے ۔دوسری جانب کانگریس پارٹی نے او بی سی طبقہ کے 57 امیدوار ، لنگایت طبقہ کے 46 ، وکلیگاس طبقہ کے 42 اور مسلمانوں کے 15 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے ۔ کانگریس انتخابی مہم کی ذمہ داری پہلے سدا رامیا اور ڈی کیشو نے سنبھالی ۔ بی جے پی کے قومی قائدین کے میدان میں کود پڑنے کے بعد راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بھی میدان سنبھال لیا ۔ پرینکا گاندھی کے زیادہ انتخابی جلسوں اور ریالیوں میں حصہ لینے سے کانگریس کیڈر میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے ۔آل انڈیا کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے کا کرناٹک سے تعلق ہے۔ وہ بھی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ سرگرم سیاست سے تقریباً دوری اختیار کرنے والی سونیا گاندھی نے بھی ہفتہ کو انتخابی مہم میں حصہ لیا ۔ جے ڈی ایس کے سربراہ سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا بھی انتخابی مہم چلاتے ہوئے کنگ میکر بننے کی کوشش کررہے ہیں ۔ 224 رکنی کرناٹک اسمبلی میں حکومت تشکیل دینے کیلئے 113 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لوک پال انتخابی سروے میں انکشاف ہوا ہیکہ کانگریس کو 129 تا 134 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہوگی اور پارٹی کو 42 تا 45فیصد ووٹ حاصل ہوں گے ۔ فی الحال کرناٹک میں حکمران جماعت بی جے پی کو 59 تا 65 نشستوں پر کامیابی کے امکانات ہیں ۔ گزشتہ انتخابات میں 36فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی کو اس مرتبہ 31 تا 32فیصد ووٹ حاصل ہوں گے ۔ جے ڈی ایس کے امیدوار 23 تا 28 اسمبلی حلقوں پرکامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور اس کو 14 تا 18 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے ۔ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو 5 تا 8 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے اور 0-2 حلقوں میں ان کی کامیابی کے امکانات ہیں ۔ ن
