کرناٹک انتخابات۔ چند ووٹوں سے ہار جیت کا نتیجہ

   

حیدرآباد 6 اپریل(سیاست نیوز)کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل مرکزی حکومت کی حکمت عملی کے دوران اپوزیشن قائدین کو نشانہ بنانے کی پالیسی بھی اختیار کئے جانے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ بی جے پی کرناٹک میں شکست کے خوف کا شکار ہے اسی لئے ریاست میں تمام ایجنسیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ‘ سی بی آئی اور انکم ٹیکس کاروائیوں کے سلسلہ میں کانگریس نے خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ بی جے پی اپنی مقبولیت میں اضافہ کیلئے کرناٹک اور ٹالی ووڈ اداکاروں کی خدمات لینے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کرناٹک میں مسلم رائے دہندوں کے رجحان واضح ہونے کے بعد بی جے پی نے مسلم ووٹوں کی تقسیم سے زیادہ ہندو ووٹوں کو متحد کرنے اقدامات پر توجہ کا فیصلہ کیا ہے اور اسی منصوبہ کے تحت اکثریتی طبقہ کو متنفر کرنے کوشش کی جا رہی ہے۔حیدرآباد کرناٹک میں جذباتی مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم روکنے کرناٹک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور مخالف بی جے پی ماحول کی تیاری کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کا کہناہے کہ حیدرآباد کرناٹک میں معمولی ووٹوں کی تقسیم سیکولر بالخصوص کانگریس امیدواروں کی شکست کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے وہ عوام کے درمیان پہنچ کرووٹ کو تقسیم سے بچانے کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے کرناٹک انتخابات 2018 میں محض 36.35 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ کانگریس کو 38.14 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اور جنتادل (سیکولر ) نے 18.3 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔گذشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کے ووٹ میں 16.3فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور کانگریس کے ووٹ میں بھی 1.4کا اضافہ ہوا تھا جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ کرناٹک کے عوام سیکولر ازم کے نام پر دھوکہ دینے والی علاقائی جماعتوں کی سازشوں کا شکار ہونے کی بجائے مفادات کے تحفظ کیلئے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ جنتادل (سیکولر) کو گذشتہ انتخابات میں 1.9 فیصد ووٹ سے محروم ہونا پڑا تھا اور اب کہا جا رہاہے کہ جے ڈی ایس عوام میں اپنا وقار کھوچکی ہے اسی لئے بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے متعدد راہیں اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے ڈی ایس کو عوامی تائیدحاصل نہ ہونے کے نتیجہ میں اب کرناٹک میں عام آدمی پارٹی نے امیدواروں کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اور بی جے پی اپنے ووٹ میں اضافہ کرنے اکثریتی طبقہ میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کرناٹک میں اپوزیشن جماعتوں و قائدین نے بی جے پی حکومت کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے علاوہ 40فیصد کمیشن کو منظرعام پر لایا ہے اور بی جے پی اس کا کوئی جواب نہیں دے پا رہی ہے اسی لئے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹ کی تقسیم کے ذریعہ دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گذشتہ انتخابات میں مختلف جماعتوں کو ملنے والے ووٹ کے فیصد کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ کرناٹک میں ایک فیصد ووٹ کا ضائع ہونا بھی بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔اسی لئے مخالف بی جے پی ماحول تیار کرنے والی تنظیموں کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم اور سیکولر ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جاسکے اور غیر مسلموں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئیاقدامات کئے جائیں۔ جنوبی کرناٹک میں جہاں بی جے پی کو اپنے زیادہ امیدواروں کی کامیابی کی توقع ہے ان علاقوں میں بھی کانگریس منظم حکمت عملی کے ساتھ عوام کے درمیان پہنچ رہی ہے۔گذشتہ یوم کانگریس قائد رندیپ سنگھ سرجے والا نے بی جے پی کی کوششوں پر کہا کہ بی جے پی ایجنسیوں اور اداکاروں پر انحصار کر رہی ہے جبکہ کانگریس کو کرناٹک کے 6.2 کروڑ عوام پر اعتماد ہے اور یقین ہے کہ کرناٹک کے عوام کانگریس کو اقتدار میں لانے اور ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں حائل رکاوٹوں کو خود دور کریں گے ۔م