حکومت پر ٹھوس گرفت نہیں، وزیر قانون مدھو سوامی کا آڈیو ۔ سب کچھ ٹھیک نہیں ، چیف منسٹر بومئی کا دعویٰ
بنگلورو : کرناٹک کے ایک وزیر کے ریمارکس جو آج صبح میڈیا میں ظاہر ہوئے، چیف منسٹر بسواراج بومئی کے لئے نئی اُلجھن ثابت ہورہے ہیں، جنھوں نے آج تصدیق کی کہ ریمارکس غیر معتبر نہیں لیکن اُسے غلط تناظر میں پیش کیا جارہا ہے۔ کرناٹک کے وزیر قانون جے سی مدھو سوامی کو ایک آڈیو کلپ میں یہ کہتے ہوئے واضح طور پر سنا جاسکتا ہے کہ ہم حکومت چلا نہیں رہے ہیں بلکہ ہم کسی طرح اِسے سنبھالے ہوئے ہیں۔ وزیر قانون نے بعد میں کہاکہ وہ دراصل فون کالر کی بات پر اتفاق کا اظہار کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ظاہر طور پر چل رہی ہے۔ میں نے محض اُس بات پر اتفاق کیا جو فون کال پر دوسری طرف سے کہا گیا۔ یہ ایک طرح سے اشتعال انگیزی ہوئی۔ میں نے محض اِس بات پر اتفاق کیاکہ ہاں حکومت کی گرفت مضبوط نہیں ہے۔ 62 سالہ چیف منسٹر بومئی کے تعلق سے ایسی قیاس آرائی چل رہی ہے کہ اُنھیں تبدیل کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ہائی کمان اُن کی حکمرانی سے مطمئن نہیں ہے۔ 5 روز قبل ایک سینئر لیڈر نے کہا تھا کہ بی جے پی آئندہ سال مقررہ ریاستی اسمبلی الیکشن جیتنا چاہے گی اور بومئی کی قیادت میں ہی چناؤ لڑے جائیں گے۔ یہ تیقن لنگایت کمیونٹی کے طاقتور لیڈر بی ایس یدی یورپا نے دیا تھا جنھوں نے 2021 ء میں اپنی سبکدوشی کے وقت بومئی کو جانشین بنایا تھا۔ یدی یورپا کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر امیت شاہ جن کے حالیہ دورہ کرناٹک نے بومئی کے ممکنہ اخراج کی باتیں پیدا کی ہیں لیکن چیف منسٹر بومئی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خود بومئی نے بھی آج کہاکہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ تاہم ایک اور سینئر وزیر نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر قانون مدھو سوامی سے استعفیٰ طلب کرلیا جائے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وہ مدھو سوامی سے بات کریں گے اور معاملہ کو درست کریں گے۔