اہم علمی و روحانی شخصیت کے انتقال سے ریاست کرناٹک کا نقصان، چیف منسٹر سدارامیا، اسپیکر کا اظہار تعزیت
گلبرگہ ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے 10روزہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینی علیہ الرحمہ کے سانحہ ارتحال پر رنج و ملال کا اظہار کیا گیا اور انھیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ریاستی وزیر قانون یچ کے پاٹل نے ایوان کی کارروائی کے رسمی آغاز کے ساتھ ہی تحریک خراج عقیدت پیش کی۔انھوں نے کہا کہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی ایک روحانی شخصیت تھے اور وہ انتہائی ذہین اور رحم دل اور نرم خو شخصیت کا نام تھا۔ وہ نہ صرف اپنے بلند و اعلیٰ روحانی منصب سے جانے جاتے تھے بلکہ اپنے انٹلکچوئل تعاون سے بھی ان کی پہچان تھی۔انھوں نے بے شمار تعلیمی ادارے قائم کیے۔ کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر یو ٹی قادر نے ایوان میں حضرت ڈاکٹر خسرو حسینی صاحب علیہ الرحمہ کی تعلیمی اور روحانی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخی بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے نہ صرف سجادہ نشین تھے بلکہ وہ خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ کے پہلے بانی چانسلر بھی تھے۔بہ حیثیت صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی انھوں نے کلیان کرناٹک جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم کو عام کرنے کی اپنے والد گرامی پدم شری حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی صاحب کی روایت کو آگے بڑھایا جنھوں نے بے شمار تعلیمی ادارے قائم کیے تھے خاص طو رپر لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں ان کی خدمات کو بھلایانہیں جاسکتا۔اس طرح حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی علیہ الرحمہ نے بھی کئی تعلیمی ادارے قائم کیے اور انھوں نے بالآخر خواجہ بند ہ نواز یونیورسٹی کے اپنے خواب کو اپنی محنت شاقہ اور انتھک کوششوں کی مدد سے پایہ تکمیل کو پہنچایا اور شرمندہ تعبیر کیا۔انھوں نے کہا کہ حکومت کرناٹک نے ان کی بلا لحاظ مذہب و ملت سماجی،تعلیمی اور ملی خدمات کے اعتراف میں انھیں باوقار کرناٹک راجیہ اتسو ایوارڈ دیا ۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اپنے تعزیتی پیام میں کہا کہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی علیہ الرحمہ نے بہ حیثیت سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ اور چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی بہترین نظم و نسق کا مظاہرہ کیا اور وہ ایک اعلیٰ سطح کے منتظم اور محقق تھے۔انھوں نے کہا کہ ان کی ناقابل فراموش علمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں حکومت کرناٹک نے 2017ء میں ان کی خدمت میں باوقار کرناٹک راجیو اتسو ایوارڈ پیش کیا تھا اور اس وقت میں ہی وزیر اعلیٰ تھا۔انھوں نے حضرت ڈاکٹر خسرو حسینی صاحب کے انتقال کو ریاست کرناٹک کے ذاتی نقصان سے تعبیر کرتے ہوئے ان کے حق میں دعا کی اور اہل خانہ کو صبر عطا ہونے کی بھی دعا کی۔