ویسے تو بی جے پی کی جانب سے ملک بھر میں اور کئی ریاستوں میں کرپشن سے پاک حکومت فراہم کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور ان کے قائدین کے خلاف رشوت اور کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کو مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ انہیں ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اگر بی جے پی اور اس کے قائدین اور وزراء کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات عائد ہوتے ہیں اور متاثرہ افراد خود بھی شکایت کرتے ہیں تب بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ان کے خلاف نہ کوئی تحقیقاتی ایجنسی حرکت میں آتی ہے اور نہ ہی کسی ادارہ کی جانب سے کوئی کارروائی شروع کی جاتی ہے ۔ کرپشن کے خلاف جدوجہد کا نعرہ دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو پریشان کیا جاتا ہے اور بی جے پی کے قائدین یا اس میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیاں ثبوت و شواہد کے باوجود خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں۔ ان کے خلاف تحقیقات تک سے گریز کیا جاتا ہے ۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔ ان کے خلاف دھاوے کئے گئے اور ہراساں کیا گیا ۔ جب ان قائدین نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تو ان کے خلاف نہ مقدمہ آگے بڑھا اور کسی تحقیقات کا کوئی نتیجہ برآمد ہوا ۔ آج بھی یہ لوگ پوری مراعات اور آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ کرناٹک میں ایک وزیر کے خلاف ایک بلڈر نے رشوت کیلئے دباؤ ڈالنے کی شکایت کی اور اس نے خود کشی تک کرلی ۔ تاہم وزیر موصوف کو کلین چٹ دیدی گئی ۔ ان کے خلاف تمام الزامات کو غلط قرار دیدیا گیا ۔ متوفی بلڈر کے افراد خاندان بے یار و مددگار ہوگئے لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہ گیا اور نہ ہی حکومت کی جانب سے انہیں کسی طرح کا انصاف فراہم کیا گیا ۔ اب کرناٹک کے تقریبا 13000اسکولس کے ذمہ داروں نے وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے محکمہ تعلیم میں کرپشن کا الزام عائد کیا اور درخواست کی کہ وزیر اعظم اس معاملہ میں مداخلت کریں۔
کرپشن اور بدعنوانیوں کیلئے اپوزیشن اور اس کے قائدین کو نشانہ بنانے والی بی جے پی کیلئے باعث شرم ہے کہ اس کے ایک وزیر کے دباؤ کی وجہ سے ایک بلڈر نے خود کشی کرلی اور اب تعلیم جیسے مقدس پیشے میں کرپشن کو بزور طاقت وصول کیا جا رہا ہے ۔ اسکولس نے شکایت کی کہ ان پر وصولی کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ان کے الحاق کو روکتے ہوئے رشوت دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ تعلیم ایک مقدس پیشہ ہے ۔ اس میں ملک کے نونہالوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ انہیں پڑھا لکھا کر ایک اچھا انسان بنایا جاتا ہے جو اس ملک کا مستقبل بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اس پیشے میں کرپشن اور بزور طاقت وصولی انتہائی شرمناک بات ہے ۔ ویسے تو بی جے پی دہلی میں عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنانے اور بدعنوانیوں کے الزامات عائد کرنے میں مصروف ہے ۔ حکومت دہلی نے ایک مثال قائم کرتے ہوئے دہلی کے اسکولس میں تعلیمی انقلاب برپا کیا ہے ۔ وہاں لوگ کانونٹ اور خانگی اسکولس سے دوری اختیار کرکے سرکاری اسکولس میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان اسکولس کو عالمی معیاد کے اسکولس میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ اسکول کے بچے شاندار تعلیمی قابلیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں دہلی کے تعلیمی انقلاب کی مثال دی جا رہی ہے لیکن بی جے پی اسی کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہی ہے اور اس کے اقتدار والی ریاست کرناٹک میں محکمہ تعلیم میں کرپشن کی خود اسکولس انتظامیہ کی جانب سے شکایت کی جا رہی ہے ۔
ایک دو اسکولس نہیںبلکہ 13 ہزار اسکولس انتظامیہ نے شکایتی محضر تیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو روانہ کیا ہے اور ان سے تفصیلی شکایات کرتے ہوئے مداخلت کی درخواست کی ہے ۔ تاہم اس بات کی کوئی امید نہیں ہے کہ کرپٹ اور بدعنوان عہدیداروں کے خلاف یا محکمہ کے ذمہ دار وزیر کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی ۔ بی جے پی اپنی صفوں میں بڑھتے کرپشن پر خاموشی اختیار کرنے اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے میں مہارت رکھتی ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں اور طلبا کے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس محکمہ کو داغدار کرنے والوں کے خلاف جمہوری دائرہ میں جدوجہد کریں اور انہیں بے نقاب کریں۔
مودی بمقابلہ کجریوال
ملک میں آئندہ عام انتخابات کیلئے سیاسی حلقوں میں سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے ۔ بی جے پی اقتدار کی ہیٹ ٹرک کرنے کی خواہاں ہے اور اس کیلئے اس کی اپنی تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی جہاں خود اپنے آپ کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے وہیں وہ اپنے مد مقابل کا بھی خود ہی انتخاب کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی نہیں چاہتی کہ آئندہ عام انتخابات میں اس کے خلاف متحدہ اپوزیشن کا مقابلہ ہونے پائے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی عام آدمی پارٹی پر توجہ کرتے ہوئے اروند کجریوال کو مودی کے مد مقابل کے طور پر ابھارنے کی کوشش میں مصروف ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کیلئے نتیش کمار کی دوری نے مسئلہ پیدا کیا تھا اور نتیش کمار کو اپوزیشن کا متحدہ امیدوار بنانے کی بات کی جا رہی تھی ۔ بی جے پی نے قبل از وقت حرکت میں آتے ہوئے انتخابات کو مودی بمقابلہ کجریوال کرنے کی مہم میں تیزی پیدا کردی ہے اور خود عام آدمی پارٹی بھی اس مہم کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ متحدہ اپوزیشن سے مقابلہ نہ ہونے پائے ۔
