حیدرآباد 7اپریل (سیاست نیوز)کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی مسلم ووٹرس کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بناکر نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ پدم شری ایوارڈ پانے کے بعد بیدر کے رشید احمد قادری نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران جو اظہار خیال کیا اسے بی جے پی اور ہمنوا قائدین و گودی میڈیا میںخوب شئیر کیا جا رہاہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مسلمانوں نے بی جے پی اور نریندر مودی کو قبول کرنا شروع کردیا اور بی جے پی مسلمانوں کے نظریات کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔ رشید احمد قادری کو پدم شری ایوارڈ کی پیش کشی سے دو یوم قبل اگر کرناٹک میں پیش آئے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو گاؤکشی کے نام پر ہندوتواتنظیموں کے 5افراد نے ادریس پاشاہ نامی شخص کو پیٹ پیٹ کرہلاک کردیا اور ادریس کی ہلاکت کے بعد پولیس کی کارروائی میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ادریس پاشاہ کو قتل کرنے والوں کا تعلق گاؤ کشی کو روکنے بنائی گئی غیر قانونی تنظیموں سے ہے اور انہوں نے ادریس کا تعاقب کرکے ان کا قتل کیا ہے۔ راشٹرپتی بھون میں کرناٹک کے ضلع بیدر کے ساکن رشید احمد قادری کو پدم شری ایوارڈ دیئے جانے سے دو یوم قبل بنگلور کے قریب ادریس پاشاہ کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور ان کی نعش دستیاب ہونے کے بعد کرناٹک کے سیکولر شہریوں اور مسلمانوں میں برسراقتدار بی جے پی حکومت میں اشرار کو کھلی چھوٹ پر غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہاہے لیکن رشید احمد قادری کے بیان کو بار بار میڈیا کے ذریعہ پیش کرکے کرناٹک میں انہیں بی جے پی کی ’لیلیٰ‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ بیدری دستکار رشید احمد قادری نے راشٹرپتی بھون میں بی جے پی اور وزیر اعظم کے متعلق اپنی رائے ظاہر کی ممکن ہے وہ شخصی جذبات ہوں لیکن اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد میڈیا میں جس انداز میں تشہیر کی جا رہی ہے کہ وہ اور ان کا خاندان بی جے پی کے احسان مند ہیں اور وہ کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ رشید احمد قادری کو ٹی وی چیانلس پر پیش کرکے انکے نظریات کو دنیا کو دکھانے والے میڈیا میں کیا اس با ت کی جرأت ہے کہ وہ ہندوتوا دہشت گردی کا شکار ادریس پاشاہ کے افراد خاندان کو چیانلس پر پیش کرکے ان کے نظریات کو آگے پیش کرسکیں! کرناٹک انتخابات بی جے پی کے لئے چیالنج بن چکے ہیں کیونکہ اگر 2024 عام انتخابات سے قبل بی جے پی کو کرناٹک میں شکست ہوتی ہے تو ملک بھر میں بی جے پی پاؤں اکھڑنے کا خدشہ ہے اسی لئے پارٹی نہ صرف سیکولر اور مسلم ووٹ کی تقسیم کی کوشش کررہی ہے بلکہ ان میں اپنا حصہ بھی تلاش کررہی ہے ۔ کرناٹک میں کانگریس کو اقتدار ملنے سے قبل بی جے پی کی راہول گاندھی کے خلاف کاروائیوں نے اپوزیشن اور انصاف پسند عوام میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا ہے جو کہ کرناٹک انتخابات پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے اسی لئے بی جے پی خوف میں مسلم قائدین و تنظیموں کے ذمہ داروں سے اپنے قائدین کی ملاقاتوں کے علاوہ مسلمانوں کو منقسم رکھنے اس طرح کی رائے پیش کروائی جا رہی ہے کہ وہ متحدہ طور پر کسی سیکولر جماعت کے ساتھ نہ جائیں بلکہ جذباتیت کا شکار نوجوانوں ‘ سیکولر افراد ‘ ضعیف العمر سیکولر شہریوں اور بے روزگار نوجوانوں کے ووٹوں کو منقسم کرنے ان تمام طبقات کو کانگریس کے متبادل کے طور پر کئی سیاسی جماعتوں کو پیش کیا جا رہاہے اور جب ان میں ووٹ تقسیم ہونے لگ جائیں گے تو اس کا فائدہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہوگا۔ شمالی ہند میں مسلم نوجوانوں کو گاؤ کشی پر نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد اب جنوبی ہند میں ادریس پاشاہ قتل کے علاوہ عوام میں نفرت پیدا کرنے اور پدم شری رشید احمد قادری کے ذریعہ اپنی تعریف کروانے کی کوششوں کے الزامات کا سامناکر رہی بی جے پی ان سب کے علاوہ جنا سینا سربراہ و تلگو فلم اسٹار پون کلیان کے علاوہ کرناٹک فلم انڈسٹری کے اداکاروں کی خدمات بھی اپنی تشہیر کیلئے حاصل کر رہی ہے۔م