نامعتبر قرار دیئے جارہے ہیں ہم
شاید وفا کی اب یہی اوقات رہ گئی
کرناٹک کو جنوبی ہند میں بی جے پی اپنے قدم جمانے کیلئے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ جنوب میں کرناٹک ہی واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی کا وجود مستحکم ہے اور اسے اقتدار بھی حاصل ہوا تھا ۔ اب بھی کرناٹک میں بی جے پی ہی برسر اقتدار ہے ۔ یہ اقتدار اس نے پچھلے درواز ے سے حاصل کیا تھا ۔ اب جبکہ ریاست میں موجودہ اسمبلی کی معیاد تکمیل کے قریب پہونچ رہی ہے اور آئندہ سال ریاست میں انتخابات ہونے والے ہیں ایسے میں کئی گوشے سرگرم ہوگئے ہیں اور ریاست کے پرامن ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ریاست میں نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ شمالی ہند کی طرح ہر مسئلہ کو ہندو ۔ مسلم رنگ دیتے ہوئے سماج میں دوریاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ حجاب مسئلہ سے نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کا عمل شروع کیا گیا تھا اور اب تقریبا ہر مسئلہ پر یہی رویہ اختیار کیا جار ہا ہے ۔ سماج میں نفرت اور دوریوں کو فروغ دینے منادر کے پاس ہونے والے میلوں اور تہواروں میں مسلم ہاکرس کو تجارت کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ مسلمانوں کے سماجی مقاطعہ یا بائیکاٹ کی اپیلیں ہو رہی ہیں۔ سماج کے دو اہم طبقات کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ اس کے بعد اب حلال اشیا اور حرام اشیا پر مباحث شروع کردئے گئے ہیں۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ سارا کچھ سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات میں عوام کو بنیادی مسائل سے بھٹکا کر شمالی ہند کی طرح نفرت کی سیاست کو فروغ دیتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ریاست میں بی جے پی کے پاس سابق چیف منسٹریدیورپا کی طرح کوئی مقبول چہرہ بھی نہیں ہے ۔ اپوزیشن کانگریس اور جے ڈی ایس کی انتخابی مہم کا جواب دینے کیلئے بھی بی جے پی کے پاس کوئی مسائل نہیں ہیں۔ ایسے میں آزمودہ ہتھکنڈہ اختیار کرتے ہوئے مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے اور ہندو ۔ مسلم کا راگ پوری شدت سے الاپا جا رہا ہے ۔ ریاست کے عوام کو ایسی کوشش سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔
بی جے پی سارے ملک میںا پنے حلقہ اثر کو مستحکم کرنا چاہتی ہے ۔ شمال میں بھی بی جے پی کی مقبولیت میں معمولی سی ہی صحیح گراوٹ ضرور آئی ہے ۔ ایسے میں جنوبی ہند میں بی جے پی اپنے قدم جمانے کیلئے کرناٹک میں اقتدار کا بیجا استعمال کررہی ہے ۔ جنوب میں بی جے پی کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ ٹاملناڈو میں پارٹی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ آندھرا پردیش میں بھی عوام نے اسے مسترد کردیا ہے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کو کچھ امید نظر آ رہی ہے جبکہ کیرالا میںبھی پارٹی اپنے قدم جمانے میں اب تک ناکام رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی جنوب میں اپنے حلقہ اثر کو وسعت دینے کیلئے اختلافی اور نزاعی مسائل کو ہوا دے رہی ہے ۔ اسی کے سہارے اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تاکہ انتخابات میں عوام مسائل یا پالیسیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ مذہبی بنیادوں پر اسے ووٹ دیں اور وہ جنوب میں بھی اقتدار حاصل کرنے کے منصوبوں میں کامیاب ہوسکے ۔ جنوبی ہند کا ماحول شمالی ہند کی بہ نسبت پرامن کہا جاسکتا ہے ۔ یہاں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششیں زیادہ کامیاب نہیں ہوئی ہیں اور جنوبی ہند کے عوام نے ترقیاتی مسائل پر اپنے ووٹ کا ہمیشہ ہی استعمال کیا ہے ۔ بی جے پی اس مزاج کی وجہ سے ہی جنوب میں زیادہ طاقتور نہیں ہو پائی ہے ۔ تاہم کرناٹک میں اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے وہ سارے جنوبی ہند کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوششیںشروع کرچکی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
خاص طور پر کرناٹک میں پچھلے دروازے سے حاصل کردہ اقتدار کو بچانے کیلئے بی جے پی نے ریاست میں اپنے عزائم و منصوبوں پر عمل کرنا شروع کردیا ہے اور نفرت انگیز پروپگنڈہ پر اکتفاء کیا جا رہا ہے ۔ جو مسائل ریاست کے عوام کو درپیش ہیں ان پر توجہ کم کرتے ہوئے نزاعی مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے اور حکومت خود بھی ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں سے بنیادی مسائل کہیں محو ہوسکتے ہیں۔ کرناٹک اور جنوبی ہند کے رائے دہندوںکو بی جے پی کی اس حکمت عملی کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے بنیادی مسائل سے بھٹکانے کے منصوبوںکو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دینا چاہئے ۔
