جنوبی ہند میں بی جے پی کے اقتدار والی واحد ریاست کرناٹک میں ایسا لگتا ہے کہ خود ریاستی حکومت کا کوئی ماڈل نہیں ہے اور نہ ہی اس کا اپنا کوئی پروگرام ہے ۔ حکومت ریاست کے کام کاج کو موثر ڈھنگ سے چلانے میں ناکام رہی ہے ۔ خاص طور پر بی ایس یدیورپا کی جانب سے سبکدوشی کے بعد سے بسوا راج بومائی کی قیادت میں بی جے پی حکومت عوام پر کوئی خاص اثر چھوڑنے میں ناکام رہی ہے ۔ تاہم اب جبکہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے تو حکومت کے سربراہ چیف منسٹر بسوا راج بومائی اور ان کی کابینہ کے ارکان کی جانب سے ایک طرح سے عوام کو خاص طور پر اقلیتوں کو کھلے عام دھمکیاں دی جانے لگی ہیں۔ اکثر یہ دیکھا جاتا رہا ہے کہ غیر سماجی عناصر کی جانب سے اور قانون کی دھجیاںاڑانے والوں کی جانب سے عوام کو دھمکیاں دی جاتی تھیں تاہم کرناٹک میں تو خود چیف منسٹر اور ان کے ایک کابینی وزیر بھی ریاست کے عوام کو دھمکیاں دینے لگے ہیں۔ بی جے پی کے ایک کارکن کے قتل کے بعد تنقیدوں کا سامناکرنے والے چیف منسٹر نے کل کہا تھا کہ ریاست کی صورتحال اگر قابو میں نہیں آتی ہے تو پھر یہاںیوگی ماڈل اپنایا جائیگا ۔ ایک طرح سے انہوں نے چیف منسٹر اترپردیش کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست کے مسلمانوں اوراقلیتوں کو دھمکانے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ مسلمانوں کو دبانے اور کچلنے سے ریاستی حکومت گریز نہیں کرے گی ۔ اس طرح ریاست کے ایک وزیر اشوتھ نارائن نے آج مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کی حکومت اترپردیش حکومت سے بھی پانچ قدم آگے جاتے ہوئے کام کریگی اور ملزمین کا انکاؤنٹر کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا ۔ یہ کھلے عام دھمکی ہے اور ایک طرح سے عدالتی عمل کی ہتک کرنے کی کوشش کہی جاسکتی ہے ۔ کوئی اگر ملزم ہے تو اس کے تعلق سے فیصلہ کرنے اور سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں کو حاصل ہے تاہم حکومت انکاؤنٹر کی دھمکی دیتے ہوئے قانون کی دھجیاںاڑا رہی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے سے خود حکومت گریز نہیں کرے گی ۔
کرناٹک میں بی جے پی کی جانب سے اب تک کوئی عوامی فلاح و بہبود کے کام نہیں کئے گئے ہیں۔ صرف نزاعی اور اختلافی مسائل اور ہندو ۔ مسلم کی سیاست کو ہی فروغ دیا گیا ہے ۔ بی جے پی کا احساس ہے کہ وہ جنوبی ہند کی اس ریاست میں اپنے اقتدار کو صرف فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہوئے ہی برقرار رکھ سکتی ہے ۔ کرناٹک میں حجاب کا مسئلہ پیدا کیا گیا تھا جو سارے ملک میں توجہ حاصل کر گیا تھا ۔ اس کے بعد حلال گوشت کے خلاف مہم چلائی گئی ۔ اس کو بھی مذہبی رنگ دے کر استحصال کرنے کے اقدامات کئے گئے ۔ پھر ریاستی قائدین کی جانب سے نفرت انگیز بیانات اور اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا گیا ۔ یہ ایک منظم سازش کا حصہ کہا جاسکتا ہے اور یہ کوشش ہے کہ فرقہ وارانہ جذبات کا استحصال کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو مستحکم رکھا جاسکے ۔ بی جے پی کو یہ انداز ہ ہے کہ جنوبی ہند میں اگر کرناٹک سے بھی اس کا اقتدار ختم ہوگیا تو دوسری ریاستوں میں اس کے توسیع پسندانہ عزائم پورے نہیںہونگے ۔ تلنگانہ پر بی جے پی نے توجہ کی ہوئی ہے اور کرناٹک اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو تلنگانہ پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے سربراہ اور دوسرے ذمہ داران تک قانون کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں اور ایسے اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قانون کی پاسداری کرنے کا حلف لینے والے قانون کی دھجیاں اڑانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔
جس طرح سے کرناٹک کے وزیر نے انکاؤنٹرس کی دھمکی دی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار والی دوسری ریاستوں میں انکاؤنٹرس پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ بی جے پی حکومتیں اس کا فیصلہ کرلیتی ہیں اور انہیں عدالتوں پر کوئی بھروسہ نہیںہوتا ۔ ملک میں عدلیہ موجود ہے اور کسی بھی ملزم کو مجرم قرار دینے یا سزا دینے کا پھر اسے بری کردینے کا اختیار صرف عدلیہ کو حاصل ہے ۔ حکومتیں اپنے طور پر فیصلہ کرتے ہوئے اگر انکاونٹر کرتی ہیں تو یہ ایک طرح سے قتل کی دھمکی ہے ۔ اس مسئلہ کا ملک کے عوام اور دوسرے ذمہ دار گوشوں کو سخت نوٹ لیتے ہوئے حرکت میں آنا چاہئے ۔
