کرناٹک میں تقریبا ایک ہفتے کے انتظار کے بعد نئی کابینہ کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے ۔ چیف منسٹر بسوا راج بومائی کی کابینہ میں 29 ارکان کو بحیثیت وزیر حلف دلایا گیا ہے ۔ ریاستی گورنر نے ایک تقریب میں انہیں حلف دلایا ہے ۔ اس کابینہ میں تقریبا وہی چہرے برقرار رکھے گئے ہیں جنہوں نے بی ایس یدی یورپا کی کابینہ میں کام کیا تھا ۔ حاالانکہ اس میں کچھ نئے چہروں کو بھی شامل کیا گیا ہے اور تمام طبقات کی نمائندگی کو موثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ سابقہ چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا کے خلاف ریاست کے کچھ وزراء اور کچھ ارکان اسمبلی نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے پارٹی اعلی قیادت کو چیف منسٹر کی تبدیلی کیلئے مجبور کردیا تھا ۔ یدی یورپا کو عمر اور صحت کا مسئلہ بتاتے ہوئے اس عہدے سے سبکدوش کروادیا گیا اور بسوا راج بومائی نے ریاست کے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لے لیا ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ریاست میں بی ایس یدی یورپا ہی بی جے پی کے سب سے مقبول ترین لیڈر رہے ہیںاور انہوں نے بی جے پی کو جنوبی ہند میں پہلی اور اولین حکومت بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ ان پر کچھ بی جے پی قائدین اور وزراء ہی نے دوسرے وزراء کے کام کاج میں مداخلت کرنے اور ان کے فرزند کو بھی مداخلت کے مواقع دینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ یدی یورپا کے فرزند کو کابینہ میں بحیثیت وزیر شامل کیا جائیگا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ اب جبکہ ریاست میں نئی کابینہ کی تشکیل عمل میں لائی جاچکی ہے ایسے میں کابینہ کے سامنے ریاست میں انتظامیہ کو موثر اور متحرک بنانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ ایک موثر انتظامیہ کی عدم موجودگی میں عوامی مسائل دھرے کے دھرے رہ گئے تھے اور ان پر کوئی فیصلے کرنے والے موجود نہیں تھے ۔ اب جبکہ چیف منسٹر اور ساری کابینہ وجود میں آگئی ہے ایسے میں عوامی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے اور ان کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کیلئے راحت کا سامان فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو داخلی مسائل سے توجہ ہٹاتے ہوئے اب سارے انتظامیہ کو متحرک کرنے پر توجہ دینا چاہئے ۔ انتظامیہ کو زیادہ وقت تک غیر کارکرد رکھنا عوامی مسائل کی یکسوئی میں معاون نہیں ہوسکتا ۔
ملک کے مختلف حصوں میں کورونا کی تیسری کے اندیشے بھی سر ابھار رہے ہیں۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران بھی کرناٹک میںعوام شدید متاثر ہوئے تھے ۔ یہاں کیسوں کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی تھی ۔ ایسے میں جبکہ تیسری لہر کے اندیشے سر ابھار رہے ہیں ریاستی حکومت کو چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسے موثر اقدامات کئے جانے چاہئیں جن کے نتیجہ میں عوام کو اس وائرس سے ممکنہ حد تک بچایا جاسکے ۔ عوام کو کورونا کی وجہ سے بھی بے شمار مسائل درپیش ہوئے ہیں۔ ملازمتوں کا مسئلہ بھی سنگین ہے ۔ بیروزگاری عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ اس کے علاوہ حالیہ مانسون کی بارش سے بھی کچھ نقصانات ہوئے ہیں۔ ریاست کے تمام مسائل پر تمام وزراء اور ذمہ دار حکام کو مل بیٹھ کر جامع حکمت عملی بناتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر بومائی کیلئے ریاست کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کا ایک بڑا چیلنج ہے ۔ خاص طور پر اس صورتحال میں جبکہ ریاست کے ایک مقبول بی جے پی لیڈر کو چیف منسٹر کے عہدہ سے ہٹایا گیا ہے اور مسٹر بومائی کو ان کا جانشین بنایا گیا ہے ۔ ایسے میں ان پر اور ان کی حکومت پر ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ جو کچھ بھی داخلی سیاسی مسائل رہے ہیں ان کی وجہ سے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ جب تک عوامی مسائل کی موثر انداز میں یکسوئی نہیں ہوتی اور عوام کو درکار راحت فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک حکومتوں کا وجود بے معنی ہی رہتا ہے ۔
یہ اندیشے بھی کچھ گوشوں کی جانب سے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ کابینہ کی تشکیل اور وزارتی قلمدانوں کی تقسیم کے بعد چیف منسٹر بومائی کیلئے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ساری صورتحال ان کیلئے پرسکون نہیں ہوسکتی ۔ جن خواہشمند ارکان اسمبلی و کونسل کو کابینہ میں جگہ نہیںدی گئی ہے انہیں دوسرے اہم عہدے دیتے ہوئے مطمئن کرنے کی ضر ورت ہوگی بصورت دیگر وہ بھی ناراض سرگرمیوں کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ بی جے پی اعلی قیادت کیلئے بھی ریاست میں بی جے پی حکومت کو کسی پریشانی کے بغیر کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا ۔ بحیثیت مجموعی مسٹر بومائی کیلئے عہدہ کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ ہیںاور ان سے توقعات بھی وابستہ ہیں۔ ایسے میں انہیں عوامی مسائل کی یکسوئی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
