کرناٹک نتائج ‘ بی آرا یس کیلئے نوشتہ دیوار ۔ مسلمانوں کے مسائل پر سنجیدگی ضروری

   

٭ 12 فیصد تحفظات کا وعدہ فراموش۔ وقف بورڈ کو کمشنریٹ کا موقف بھی نہیں دیا گیا
٭ مسلمانوں کیلئے ٹی ۔ پرائم اسکیم بھی محض اعلان تک محدود ۔ عمل بالکل ندارد
٭ چیف منسٹر اوور سیز اسکالرشپ اسکیم کی رقم جاری ہوئی اور نہ فیس باز ادائیگی کا کوئی پرسان حال
٭ اجمیر شریف میںرباط کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور نہ نئے حج ہاوز کا ہی کوئی پتہ ہے

حیدرآباد۔15۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اقلیتوں کے مسائل بالخصوص ان کیلئے شروع کردہ اسکیمات پر عمل نہیں کرتی ہے تو ریاست میں مسلمان متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں ووٹ کے استعمال کے ذریعہ اسے شکست سے دوچار کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات ‘ وقف بورڈ کو کمشنریٹ میں تبدیل کرنے ‘ اقلیتوں کیلئے بجٹ میں ذیلی منصوبہ کی منظوری جیسے اہم وعدے کئے تھے لیکن کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ جو اسکیمات پہلے سے ہیں ان میں بھی اقلیتوں سے ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کیلئے چیف منسٹر اووسیز اسکالر شپس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس میں دو سال سے زائد سے اسکالر شپس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی اسی طرح اقلیتی طلبہ کو فیس کی بازادائیگی اسکیم کے تحت رقومات 3 سال سے جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اسکالر شپس کی اجرائی بھی زائد از3 سال سے زیر التوا ہے ۔ تلنگانہ پرائیڈ کے نام سے ریاست کے دلتوں کو روزگار کی فراہمی کی اسکیم کا آغاز کیا گیا اور 4سال قبل مسلمانوں کیلئے ٹی ۔ پرائم اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا ۔ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کیلئے محض اعلانات کئے گئے اور ان پر عمل میں بی آر ایس بڑی حد تک ناکام ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے نوجوانوں کو قرضہ جات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ ایک سے زائد مرتبہ قرضہ جات کیلئے درخواستیں وصول کی گئیں لیکن انہیں منظور نہیں کیا گیا ۔ مسلم نوجوانوں کی ترقی اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے تربیت کے نام پر کروڑہا روپئے خرچ کے دعوے کئے گئے لیکن اس کے نتائج پر کوئی جواب حکومت یا محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس نہیں ہے۔ حکومت نے اقلیتوں کے نام پر چند مخصوص عہدیداروں اور ان کے ہمنوا وں کو فائدہ پہنچاکر تلنگانہ میں اقلیتی ہمدردی کے دعوے کئے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے حکومت کے وعدوں میں اجمیر شریف میں رباط کی تعمیر‘ شمس آباد ائیرپورٹ کے قریب نئے حج ہاؤز کی تعمیر ‘ کوکا پیٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے علاوہ دیگر کئی اعلانات کئے گئے تھے لیکن کسی ایک پر عمل آوری نہیں ہوپائی بلکہ سنگ بنیاد تقاریب تک نہیں کی گئی ۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں سماجی انصاف اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے اعلانات کئے تھے لیکن تلنگانہ میں 10 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرس کے تقررات کئے گئے اور ایک یونیورسٹی میں بھی مسلم وائس چانسلر کا تقرر عمل میں نہیں لایا گیا ۔ حکومت نے تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی لیکن مسلم نمائندگی کی روایت کو ختم کردیا گیا اور موجودہ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں کوئی مسلم رکن نہیں ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ میں ڈائرکٹرس کے تقرر میں مسلم ڈائرکٹرکے تقرر کی روایت کو بھی ختم کردیا گیا اسی طرح نامزد عہدوں بالخصوص مسلم ارکان قانون ساز کونسل کے معاملہ میں مسلم نمائندوں کی معیاد کی تکمیل کے بعد ان کی توسیع یا ان کی جگہ کسی اور مسلم سیاستداں کو عہدہ فراہم کرنے کی بجائے انہیں نظرانداز کیا گیا۔ حکومت کے مسلمانوں کے ساتھ سلوک اور ان کی ترقی میں رکاوٹوں کو دور کرنے میں ناکامی کے علاوہ منظم انداز میں انہیں سرکاری فوائد سے محروم کرنے کی کوشش کو سرکردہ علماء و مشائخین محسوس کرنے لگے ہیں اور اب وہ کرناٹک کے نتائج کو دیکھتے ہوئے کانگریس کو بی آر ایس کا بہتر متبادل تصور کرنے لگے ہیں۔ جگتیال میں مسلم لڑکی پر حملہ کا واقعہ ‘ میدک میں عبدالقدیر کی پولیس ہراسانی کے سبب موت ‘ نارائن کھیڑ اقلیتی اقامتی جونیئر کالج میں کم عمر لڑکی کے ماں بننے کا واقعہ کے علاوہ آئے کئی واقعات پر بھی اب تبادلہ خیال کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں حکومت سے مسلمانوں کو گذشتہ 9 برسوں میں محض گمراہ کیا گیا اور ان کے ساتھ مساوی سلوک نہ کئے جانے سے ان کی تعلیمی ومعاشی صورتحال میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی ۔ حالیہ عرصہ میں حکومت سے ریاست میں ’دلتوں‘ کیلئے فی خاندان 10 لاکھ روپئے کی فراہمی کیلئے ’دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا تھا اور اسی طرز پر مسلمانوں کیلئے ’مسلم بندھو‘ اسکیم کو کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کیلئے بجٹ میں رقم مختص نہیں کی گئی جو حکومت کی اقلیتوں اور مسلمانوں سے بے اعتنائی کا ثبوت ہے۔م