کرناٹک وزیر کا کرپشن

   

Ferty9 Clinic

عنایت بھی تری کیا کم ہلاکت خیز ہے ساقی
کہ جو بھی تیری محفل میں ہے بد پرہیز ہے ساقی
کرناٹک وزیر کا کرپشن
ملک بھر میں اپوزیشن جماعتوں کو کرپشن کے مسئلہ پر نشانہ بنانے والی بی جے پی کے ایک ریاستی وزیر پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد ہوئے ہیں اور ایک کنٹراکٹر نے وزیر موصوف کے حامیوں کی ہراسانی اور کمیشن کیلئے مسلسل اصرار سے تنگ آکر خودکشی کرلی ۔ کرناٹک کے اڈوپی ضلع میں آج صبح ایک کنٹراکٹر سنتوش پاٹل نے میڈیا اورا پنے افراد خاندان کو آخری پیغام روانہ کیا کہ ان کی موت کیلئے ریاستی وزیر دیہی ترقیات اور پنچایت راج کے ایس ایشورپا ذمہ دار ہونگے ۔ الزام ہے کہ ایشورپا کے حامیوں نے وزیر موصوف کی ایماء پر کنٹراکٹر سے ایک کام کیلئے 40 فیصد کمیشن طلب کیا تھا ۔ یہ کنٹراکٹر آج اڈوپی ضلع میں ایک خانگی لاج میں مردہ پایا گیا ۔ اس نے اپنے پیام میں وزیر اعظم نریندر مودی ‘ چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی اور سینئر بی جے پی لیڈر بی ایس ایڈورپا سے اپیل کی کہ اس کی موت کے بعد اس کی بیوی اور بچوں کی مدد کی جائے ۔ کنٹراکٹر نے اپنے پیام میں واضـح طور پر تحریر کیا کہ دیہی ترقیات و پنچایت راج کے وزیر کے ایس ایشورپا اس کی موت کیلئے مکمل ذمہ دار ہیں۔ وہ یہ فیصلہ اپنے خواہشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کر رہا ہے ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر وزیر اعظم ‘ چیف منسٹر اور ایڈورپا سے درخواست کرتا ہے کہ اس کی بیوی اور بچوں کی مدد کی جائے ۔ وزیر ایشورپا نے اپنے رد عمل میں کہا کہ انہیں آج صبح کی ہی اس واقعہ کا علم ہوا ہے اور انہوں نے اس کنٹراکٹر سے واقفیت سے انکار کردیا ہے ۔ ایشورپا نے استعفی دینے اپوزیشن کانگریس کے مطالبہ کو مسترد بھی کردیا ہے ۔ ویسے بھی کرناٹک کے وزیر موصوف پر مسلسل اشتعال انگیز اور متنازعہ بیانات دینے کے الزامات ہیں۔ وہ ہندو ۔ مسلم منافرت کو پھیلانے سے بھی گریز نہیں کر رہے تھے اور اب ان کے اور ان کے حامیوں کے کرپشن کی حقیقت بے نقاب ہوئی ہے اس کے باوجود وہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفی دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اگر الزامات میں کوئی سچائی نہیں بھی ہے تب بھی تحقیقات کی تکمیل تک انہیں اخلاقی طور پر اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردینا چاہئے ۔
بی جے پی اکثر و بیشتر اپوزیشن جماعتوں اور ان کے قائدین پر کرپشن میں ملوث رہنے کے الزامات عائد کرتی ہے ۔ جہاں کہیں کرپشن کے الزامات سامنے آئیں ان کے استعفے کے مطالبات کرتی ہے لیکن جب بات خود بی جے پی کے قائدین یا ذمہ دار وزراء کی آجاتی ہے تو دوہرے معیارات اختیار کئے جاتے ہیں۔ تحقیقات پر اثر انداز ہوتے ہوئے ان کا رخ موڑ دیا جاتا ہے ۔ میڈیا میں بھی اتنی اخلاقی جراء ت باقی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بی جے پی اور اس کے قائدین اور وزراء کے کرپشن کو بے نقاب کریں یا پھر ان سے استعفی کا مطالبہ کیا جائے ۔ خود بی جے پی کے ذمہ دار قائدین کی جانب سے بھی ایسے عناصر اور کرپٹ قائدین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ان کے تعلق سے حقائق کو منظر عام پر لانے یا پھر خاطیوں کو سزائیں دلانے سے زیادہ انہیں بچانے کی فکر کی جاتی ہے ۔ انہیں بچانے کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں اور جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کی کسی طرح کی امداد یا انہیں انصاف رسانی کی بی جے پی یا اس کے ذمہ داروں کو کوئی فکر نہیںہوتی ۔ یہ بی جے پی اور اس کے قائدین کے دوہرے معیارات ہیں۔ یہ لوگ اپنے لئے ایک الگ فارمولہ رکھتے ہیں اور دوسروں کیلئے علیحدہ فارمولے پر عمل کیا جاتا ہے ۔ یہ سیاسی اور عوامی زندگی کے اختیارات کا بے جا استعمال ہے اور اس روایت کو ترک کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو لوگ متاثر ہو رہے ہیں ان کو انصاف مل سکے ۔
جس طرح سے کرناٹک میں کنٹراکٹر نے الزام عائد کیا ہے اس کی بالکل جامع اور انتہائی غیر جانبداری سے تحقیقات کروائی جانے کی ضرورت ہے ۔ یہ غیرجانبدار تحقیقات اسی وقت ممکن ہے جب ریاستی وزیر اپنے عہدے سے استعفی پیش کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو چیف منسٹر بومائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں برطرف کرتے ہوئے تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہونچائیں اور جو کچھ بھی حقائق منظر عام پر آئیں ان کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اس واقعہ کا نوٹ لیتے ہوئے کرناٹک کے قائدین کو ضروری ہدایات دینے کی ضرورت ہے تاکہ مظلوم سے انصاف ہوسکے ۔