کرناٹک چیف منسٹرکی تبدیلی کے آثار

   

Ferty9 Clinic

چند برسوں تک ملک کی بیشتر ریاستوں میں برسر اقتدار رہنے والی بی جے پی کیلئے ایسا لگتا ہے کہ حالات بتدریج بدلنے لگے ہیںاورمختلف ریاستوںمیںاس کیلئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔بی جے پی جہاںشمالی ہند میں طاقتور ہے اور وسطی ہندوستان و مغربی ومشرقی حصوں میں بھی کچھ نہ کچھ وجود رکھتی ہے اس کیلئے جنوبی ہند میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے میںہمیشہ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ آندھرا پردیش میں بی جے پی کے کوئی نمائندے نہیںہیں۔ ٹاملناڈو میںبھی بی جے پی کا وجود نہیں ہے ۔ کیرالا میں بی جے پی کو قبول نہیں کیا جاتا ۔ تلنگانہ میں بی جے پی ابھی تک بھی برائے نام ہی ہے ۔ کرناٹک ایک ایسی ریاست ہے جہاں بی جے پی نے اپنی چالبازیوں کے ذریعہ کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کرلیا تھا ۔ اس کیلئے ریاست میں عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت کو بھی زوال کا شکار کرنے سے گریز نہیںکیا گیا ۔ کرناٹک میں بی ایس ایڈورپا بی جے پی کے قد آور قائد رہے تھے اور انہوں نے ہی پارٹی کو اقتدار دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ جس وقت وہ بی جے پی سے مستعفی ہوگئے تھے اس وقت بی جے پی کو ریاست میںشکست ہوگئی تھی ۔ انہوں نے دوبارہ بی جے پی میںشمولیت اختیار کی اور ریاست میںارکان اسمبلی کو مستعفی کرواتے ہوئے جے ڈی ایس۔ کانگریس حکومت کو زوال کا شکار کردیا ۔ ایڈورپا خود ریاست کے چیف منسٹر بن گئے تھے ۔ بعد میں داخلی خلفشار اوراختلافات کی وجہ سے انہیں چیف منسٹر کے عہدے سے علیحدہ کردیا گیا ۔ اب بسوا راج بومائی کوریاست کا چیف منسٹر بنایا گیا تھا لیکن اب بی جے پی بسوا راج بومائی کی کارکردگی سے بھی مطمئن نہیں ہے اور یہ آثار و قرائن ہیںکہ بی جے پی انہیں بھی آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ بی جے پی کے خیال میں بسوا راج بومائی کی کارکردگی بحیثیت چیف منسٹر اطمینان بخش نہیں رہی ہے اور وہ انہیں تبدیل کرتے ہوئے زیادہ عوامی مقبولیت رکھنے والے چہرے کو یہ ذمہ داری سونپنا چاہتی ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ بی جے پی نے ایسے کسی چہرے کی تلاش کا عمل شروع بھی کردیا ہے ۔
کرناٹک میں بی جے پی کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بی ایس ایڈورپا جیسا مقبول اور قد آور لیڈر کوئی دستیاب نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی چہرہ عوام پر اثر انداز ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا جو ساری ریاست میںپارٹی کو مستحکم کرسکے ۔ داخلی اختلافات اور خلفشار بھی یہاں بی جے پی کیلئے زیادہ ہوگئے ہیں۔ ارکان اسمبلی وزراء کے خلاف اور وزراء چیف منسٹر کے خلاف ریمارکس کرنے میں پس و پیش نہیںکرتے ۔ اسی وجہ سے ایڈورپا کو یہاں چیف منسٹر کے عہدے سے علیحدہ ہونا پڑا تھا ۔ چونکہ بی جے پی ملک کی پانچ ریاستوں میں ہورہے اسمبلی انتخابات میں مصروف ہے اور خاص طور پر اترپردیش میںبی جے پی زیادہ توجہ دے رہی ہے ایسے میں فی الحال کرناٹک میں چیف منسٹر کی تبدیلی کو ملتوی رکھا گیا ہے لیکن جیسے ہی انتخابات کا عمل مکمل ہوجائیگا بی جے پی کرناٹک پر توجہ دے گی ۔ ریاست میں برسر اقتدار حلقوں میں اس تعلق سے ابھی سے بے چینی کا آغاز ہوگیا ہے اور چیف منسٹر کی کرسی حاصل کرنے کے خواہاں افراد نے ابھی سے دوڑ دھوپ بھی شروع کردی ہے ۔ خود چیف منسٹر کو بھی ا س طرح کی سرگرمیوں کا انداہ ہوگیا ہے اور وہ بھی حکمرانی پر زیادہ توجہ کرنے کی بجائے اپنی کرسی بچانے کی فکر میںزیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چیف منسٹر کی تبدیلی کے ساتھ ریاستی کابینہ میں بھی بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا جائیگا اور کچھ ایسے وزراء کو کابینہ سے باہر کیا جاسکتا ہے جو اکثر حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
بی جے پی کیلئے آئندہ سال ہونے والے انتخابات کی اہمیت ہے اسی لئے ابھی سے اس سلسلہ میں داخلی طور پر سب کچھ سدھارنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کسی نوجوان چہرے کو موقع دے کر آئندہ سال کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی نوجوان چہرہ اتنا مقبول نہیں ہے کہ ساری ریاست میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت کرسکے اور کامیابی دلا سکے ۔ کئی وزراء جو کابینہ سے بیدخل کئے جاسکتے ہیں وہ بھی پارٹی کے خلاف بغاوت کیلئے تیار ہو رہے ہیں۔ ایسے میںبی جے پی کیلئے کرناٹک میں بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے ۔