کرناٹک کا حجاب تنازعہ

   

Ferty9 Clinic

کرناٹک میںحجاب تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے ۔ ریاست میں حجاب کے تنازعہ کو استعمال کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی سازشیں شروع ہوگئی ہیں۔ انتخابی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کرنے کے عزائم اور منصوبوں کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے ۔ اس مسئلہ کو مزید ہوا دینے کیلئے ساری ریاست میں کشیدگی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔ احتجاج کو منظم انداز میں پھیلاتے ہوئے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں حکومت کی نا اہلی بھی آشکار ہوتی جا رہی ہے ۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے کی بجائے حکومت کی جانب سے آئندہ تین دن کیلئے ہائی اسکولس اور کالجس کو تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ ایک دن قبل ہی کرناٹک کے ایک کالج میں باحجاب طالبات کیلئے علیحدہ کلاس روم فراہم کردیا گیا تھا اس طرح انہیں سب سے الگ تھلگ کیا گیا تھا ۔ جہاں تک حجاب کا سوال ہے تو یہ کوئی نئی روایت نہیں ہے ۔ کئی برسوں سے بلکہ آزادی کے بعد سے اب تک ملک کے تقریبا تمام کالجس میں مسلم طالبات جو پردہ کرتی ہیں وہ حجاب کا استعمال کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ان کے حجاب استعمال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا ۔ کئی ایسے مناظر بھی آج کے وقتوں میں عام ہوگئے ہیں جب غیر مسلم لڑکیاں بھی مختلف وجوہات کی بناء پر حجاب کا استعمال کرتی ہیں۔ حجاب ایک تنازعہ کی وجہ نہیں ہے بلکہ حجاب کی وجہ سے کئی تنازعات کو ٹالا جاسکتا ہے لیکن مفاد پرست گوشوں کی جانب سے اس کا استحصال کرتے ہوئے سماج میں بدامنی اور نراج کی کیفیت پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ وقفہ وقفہ سے نت نئے مسائل کو پیدا کرتے ہوئے ان میں عوام کو الجھاد یا جاتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹ جاری ہے ۔ جہاں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے صورتحال کا استحصال کیا جا رہا ہے وہیں زرخرید میڈیا کے پالتو ٹی وی اینکرس کی جانب سے بھی جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ حالات کو سنبھلنے کا موقع دینے کی بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنانے کیلئے اس طرح کے مباحث کئے جاتے ہیں جن سے سماج میں بھائی چارہ کی بجائے نفرت کو فروغ حاصل ہوجائے ۔
آج ایک مسلم لڑکی نے جس کردار کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق ستائش ہے ۔ اس نوجوان لڑکی نے تن تنہا سینکڑوں بیہودہ نوجوانوں کا سامنا کیا اور جس طرح اس ایک تنہا بنت مسلم کو دیکھ کر بھیڑیوں کی طرح نوجوان ابھر آر ہے تھے وہ منظر سارے ملک نے دیکھا اور ہر کوئی اس دلیر اور بے باک مسلم لڑکی کی ستائش کر رہا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ملک میں یہ ویڈیو وائرل ہوگیا ۔ اس کی تائید و حمایت میں ساری ریاست کرناٹک کے کئی کالجس کی طالبات بھی کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ حجاب کے تنازعہ میں کرناٹک کی باحجاب مسلم طالبات نے جس کردار کا مظاہرہ کیا ہے وہ سبھی کیلئے مثال ہے ۔ انہوں نے اس مسئلہ کو سیاسی قائدین یا جماعتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بننے کا موقع نہیں دیا اور خود حکام سے اور کالج انتظامیہ سے اس مسئلہ پر نمائندگی کر رہی ہیں اور ان سے بات چیت کی جا رہی ہے ۔ وہ اپنا موقف رکھتے ہوئے دلائل پیش کر رہی ہیں ۔ تاہم جہاں تک حجاب کی مخالفت کرنے والوں کا سوال ہے تو انہوں نے سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے ۔ ایک مخصوص رنگ کو اختیار کرتے ہوئے حجاب کی مخالفت کی حدیں توڑی جا رہی ہیں۔ ایک اور ویڈیو بھی آج وائرل ہوا جس میں دیکھا گیا ہے کہ نوجوان طلبا کو بھگوا رنگ کی پگڑیاں اور اسکارف بانٹے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی حجاب پہننے والی لڑکیوں کے خلاف مظاہرے کرسکیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حجاب کے خلاف جو مہم چلائی جا رہی ہے وہ طلبا کی نہیں ہے بلکہ اسے منظم انداز میں اسپانسر کیا جا رہا ہے ۔
کبھی مسلمانوں کی غذائی عادات کی وجہ سے ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی ۔ کبھی ان کے لباس کو نشانہ بنایا گیا تو اب مسلم لڑکیوں کے حجاب پر سیاست کرنے اور اپنے ادنی سے مفادات کی تکمیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کیلئے ملک کے پرامن اور ہم آہنگی والے ماحول کو خراب کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی مذموم حرکت ہے اور اس کے نتیجہ میں سماج میں دوریاں پیدا ہونگی ۔ نفرت کو فروغ حاصل ہوگا اور ملک اورر یاست کی ترقی متاثر ہوسکتی ہے ۔ حکومت کو اس معاملہ میں کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر طالبات کے تقدس کی پاسداری کرنی چاہئے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ کم از کم تعلیمی اداروں میں ماحول خراب ہونے نہ پائے اور نہ متعصب ذہنیت کو کسی استحصال کا موقع ملنے پائے۔