کرناٹک کی صورتحال کشیدہ

   

Ferty9 Clinic

پڑوسی ریاست کرناٹک میں صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے ۔ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے صورتحال کا استحصال کرتے ہوئے مذہبی منافرت کو ہوا دی جا رہی ہے اور ساری ریاست کے ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے ۔ کرناٹک میں ویسے تو وقفہ وقفہ سے کچھ نہ کچھ بہانے کرتے ہوئے یا کسی نہ کسی مسئلہ کو ہوا دیتے ہوئے حالات بگاڑنے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں۔ کبھی ٹیپو سلطان کے خلاف تبصرے کرتے ہوئے تو کبھی کسی اور بات پر ماحول پراگندہ کیا جا رہا تھا ۔ تاہم اڈوپی ضلع کے ایک کالج میں طالبات کو حجاب کے ساتھ داخلہ کی اجازت نہ دیتے ہوئے جو ماحول بگاڑا گیا تھا اب وہ طول پکڑنے لگا ہے ۔ حجاب کا استعمال یا اس سے روکنا طالبات اور کالج انتظامیہ کے درمیان مسئلہ تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلہ کو اب مذہبی منافرت کا رنگ دیتے ہوئے بھڑکا دیا گیا ہے اور اس کے جواب میں کئی ہندوتوا تنظیمیں میدان میں اتر آئی ہیں۔ اسی ماحول میں کرناٹک کے شہر شیواموگا میں ایک ہندو کارکن کا قتل ہوگیا جس کو اب حجاب تنازعہ سے جو ڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ حالانکہ کرناٹک کے وزیر داخلہ اے دیانیندرا نے کل ہی تردید کرتی تھی کہ اس سارے مسئلہ کا حجاب تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مجرمانہ پس منظر کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے اور پولیس کی تحقیقات میں بھی اس کا حجاب تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں پایا گیا تھا ۔ اب اس کو فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے حجاب تنازعہ سے جوڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ خود اڈوپی کالج میں مسلم طالبات کو حجاب کے استعمال سے روکنے والا کالج پرنسپل بھی کہہ رہا ہے کہ یہ مسئلہ حجاب تنازعہ سے مربوط ہے ۔ جب ریاست کے وزیر داخلہ اور اعلی پولیس عہدیدار اس کی تردید کر رہے ہیں تو پھر کالج پرنسپل یا فرقہ پرست تنظیمیں کس طرح اس طرح کا دعوی کرسکتی ہیں ؟ ۔ اگر وہ اس طرح کا دعوی کرتے ہوئے ماحول کو مزید پراگندہ کرنا چاہتے ہیں تو پولیس کو ایسے عناصر کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے ماحول مزید ابتر ہوجائیگا ۔ ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں چاہتی ہی یہی ہیں کہ ریاست کا ماحول خراب ہوجائے ۔
کسی انسان کا قتل انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کی وجوہات کیا رہی ہیں اور اس کے پس پردہ محرکات کیا ہیں۔ وہ کون مجرمین ہیں جنہوں نے قتل کیا ہے ان ساری باتوں کی سچائی کا پولیس اپنی تحقیقات میں پتہ چلائے گی ۔ پولیس کو اس معاملہ میں بھی پوری دیانتداری اور مہارت کے ساتھ تحقیقات کرنے اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچانے کی ضرورت ہے لیکن ایک نوجوان کی جان چلی جانے کے باوجود اس کے بہانہ سے ساری ریاست کا ماحول خراب کرنے اور سماج میں نفرت کا زہر گھولنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی ۔ ریاست کے وزیر کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرا رخ حالات کو دینے کی کوشش کرنے والوں کے عزائم کا پتہ چلانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ یہ پتہ چلانا چاہئے کہ یہ عناصر کس طرح سے اس قتل کو حجاب تنازعہ سے جوڑنے کا دعوی کرسکتے ہیں ؟ ۔ کیا یہی لوگ اس کے پس پردہ محرک تو نہیں ہیں ؟ ۔ اس طرح کے کئی سوال پیدا ہوسکتے ہیں اگر پولیس اپنی تحقیقات میں غیرجانبداری اور دیانتداری سے کام کرے گی ۔ جو تنظیمیں اور فرقہ پرست طاقتیں ریاست کا ماحول بگاڑنے پر تلی ہوئی ہیں ان کے عزائم کے تعلق سے بھی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ریاست کے امن و امان سے کھلواڑ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی ۔ ایک کام غلط ہوا ہے تو اس کے جواب میں دوسرے کئی غلط کام کرنے اور امن و امان کو متاثر کرنے کا جواز نہیں ہوسکتا ۔
پولیس کو اس پہلو سے بھی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ریاست میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کی سازش تو نہیں رچی جا رہی ہے ؟ ۔ ویسے بھی ملک کی بیشتر ریاستوں میں عین اسمبلی انتخابات سے قبل فسادات بھڑکانے کی روایت زور پکڑتی جا رہی ہے ۔ اترپردیش میں گذشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے تھے ۔ اس کا سیاسی فائدہ حاصل کیا گیا ۔ اسی طرح دہلی کے گذشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل بھی وہاں بھیانک فساد بھڑکایا گیا تھا لیکن اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں کسی کو کامیابی نہیں ملی ۔ اس پہلو سے بھی تحقیقات کرتے ہوئے پولیس کو حقائق کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے ۔