کرناٹک کے بعد تلنگانہ پر کانگریس ہائی کمان کی نظر، کابینہ میں تبدیلی کا بڑھتا دباؤ

   

بعض وزراء کی تبدیلی یقینی، دعویدار ہائی کمان سے رجوع، نئے اسپیکر کی تلاش
حیدرآباد 4 جون (سیاست نیوز) کرناٹک میں چیف منسٹر اور کابینہ کی تبدیلی کے بعد تلنگانہ میں بھی کابینہ میں بڑے پیمانہ پر تبدیلی کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کرچکی ہیں۔ گزشتہ 30 ماہ کے دوران کابینہ میں شمولیت کے خواہشمندوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ان میں بعض ایسے ہیں جن سے پارٹی ہائی کمان نے وزارت کا وعدہ کیا تھا۔ ڈسمبر 2023ء میں ریونت ریڈی کی زیرقیادت حکومت کی تشکیل کے بعد سے آج تک مکمل کابینہ تشکیل نہیں دی گئی۔ اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 رکنی کابینہ تشکیل دی جاسکتی ہے اور تلنگانہ میں چیف منسٹر کے بشمول جملہ 16 وزراء ہیں۔ مخلوعہ 2 نشستوں پر دعویداروں کی تعداد 10 سے زائد ہے اور وہ اِس اُمید میں خاموش ہیں کہ کانگریس ہائی کمان جلد ہی اُن سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کرے گا۔ کرناٹک میں ڈی کے شیو کمار کے حامی ارکان اسمبلی کے مسلسل دباؤ کے بعد کانگریس اعلیٰ کمان نے چیف منسٹر تبدیل کردیا اور شیو کمار نے اپنی پسند کی وزارتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کرناٹک کے مرحلہ کی تکمیل کے بعد اُمید کی جارہی ہے کہ ہائی کمان تلنگانہ پر توجہ مرکوز کرے گا۔ تلنگانہ میں چیف منسٹر کی تبدیلی کا کوئی مطالبہ نہیں ہے تاہم وزارت کے دعویداروں کی جانب سے ہائی کمان پر دباؤ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ وزراء کی کارکردگی کی بنیاد پر اُنھیں برقرار یا پھر علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی ہائی کمان نے موجودہ وزراء کی کارکردگی کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2 مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے کے علاوہ موجودہ کئی وزراء کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور قلمدانوں میں بھی بڑے پیمانہ پر ردوبدل کی قیاس آرائیاں ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بعض غیر متوقع نام کابینہ میں شامل کئے جاسکتے ہیں جن میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار شامل ہیں۔ دیگر دعویداروں میں کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی، سدرشن ریڈی، اے سرینواس، بالو نائک، رامچندر نائک، مال ریڈی رنگاریڈی شامل ہیں۔ پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی نے حالیہ دنوں راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے ملاقات کرتے ہوئے کابینہ میں توسیع پر زور دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 3 موجودہ وزراء کو کابینہ سے علیحدہ کرتے ہوئے اُنھیں ریاستی یا قومی سطح پر پارٹی کی ذمہ داری دی جائے گی۔ جی پرساد کمار کی کابینہ میں شمولیت کی صورت میں نئے اسپیکر کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی رکن اسمبلی کو اسپیکر کے عہدہ کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ موجودہ وزیر ایس سی ڈیولپمنٹ اے لکشمن کمار پارٹی کے تمام گروپس میں قابل قبول قائد کے طور پر دوڑ میں آگے ہیں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے ایک سے زائد مرتبہ موجودہ وزراء کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی اور واضح کردیا تھا کہ کابینہ میں توسیع یا تبدیلی کی صورت میں برقراری کا انحصار کارکردگی کی بنیاد پر رہے گا۔ کئی وزراء اپنے قلمدانوں کے ساتھ انصاف میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ وزراء کو عہدیداروں کی جانب سے عدم تعاون کا سامنا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے پاس کئی اہم قلمدان ہیں جن میں ہوم، ایجوکیشن اور بلدی نظم و نسق شامل ہیں۔ اِن قلمدانوں کو نئے وزراء میں تقسیم کئے جانے کا امکان ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی جانب سے کابینہ میں نمائندگی میں اضافہ کی مانگ کی جارہی ہے۔ پسماندہ طبقات کے ذیلی طبقات کو بھی کابینہ میں شمولیت کی خواہش ہے لیکن مسلم اقلیت کی نمائندگی کو ایک سے دو کرنے کے بارے میں نہ ہی ہائی کمان اور نہ ہی ریاستی قیادت کو کوئی فکر ہے۔ تلنگانہ کے کانگریس سے وابستہ اقلیتی قائدین میں ایسی صلاحیت اور طاقت نہیں کہ وہ اضافی نمائندگی کے لئے ہائی کمان اور چیف منسٹر کو مجبور کرسکیں۔V/1