بنگلورو، 7 جون (یو این آئی) بنگلورو میں وی آئی پی اور وی وی آئی پی قافلوں کی وجہ سے ٹریفک کی بندش پر عوامی ناراضی میں اضافے کے درمیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اتوار کو خصوصی ‘زیرو ٹریفک کوریڈور’ کے بجائے نما میٹرو میں سفر کرنے کو ترجیح دی۔ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایک شخص کے اپنی حاملہ بیوی کو اسپتال لے جاتے ہوئے گورنر کے قافلے کی وجہ سے ٹریفک میں پھنس جانے کی خبر نے شہر بھر میں شدید ردِعمل پیدا کیا تھا۔ شیوکمار کا میٹرو کا انتخاب محض ایک سفری فیصلہ نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے ۔بنگلورو جہاں ٹریفک جام روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے ، طویل عرصے سے وی آئی پی نقل و حرکت کے باعث عوامی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ۔ شہریوں کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ چند معزز شخصیات کے لیے سڑکوں کو خالی کرا دینا اور ہزاروں افراد کو رکاوٹوں کے پیچھے انتظار پر مجبور کرنا حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتے فاصلے کی علامت بن چکا ہے ۔اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ودھان سودھا میٹرو اسٹیشن سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز اور حلقئہ انتخاب کنکاپورا کے لیے میٹرو کا سفر کیا۔ یہ دورہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عوام کاشکریہ ادا کرنے کی مہم کا حصہ تھا۔ روزمرہ سفر کرنے والے مسافروں کے لیے یہ ایک غیرمعمولی منظر تھا کہ وہ ریاست کے سب سے بااثر سیاسی رہنما کے ساتھ ایک ہی کوچ میں سفر کر رہے تھے ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بنگلورو کی مصروف سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا۔ روایتی سڑک کے سفر کی صورت میں سکیورٹی انتظامات اور ٹریفک پابندیوں کے باعث شہر کے کئی اہم راستوں پر آمدورفت متاثر ہو سکتی تھی۔