وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے ہیں تالیاں بجاتے ہوئے
بی جے پی کو جنوبی ہند میںصرف کرناٹک میںداخلہ حاصل ہوا ہے اور وہاں بھی بی جے پی اقتدارسے محروم ہو گئی تھی ۔ بی جے پی نے وہاں ایک منتخبہ اور کارکرد حکومت کو اپنی سازشوں کے ذریعہ اقتدار سے محروم کردیا اور خود پچھلے دروازے سے اقتدار پر قابض ہوگئی ۔ جنوبی ہند کی کسی اور ریاست میں بی جے پی کو طاقتور موقف حاصل نہیںہوا ہے ۔ بی جے پی کسی بھی قیمت پر جنوبی ہند میں بھی اپنے وجود کومستحکم کرنے کی کوششیں کرنے لگی ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کے پاس کرناٹک ایک واحد ریاست ہے جہاں وہ اپنے ایجنڈہ پر دھڑلے سے عمل کرنا شروع کرچکی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جس طرح گجرات کو ماضی میں بی جے پی نے ہندوتوا کی تجربہ گاہ بنایا تھا اسی طرح اب جنوبی ہند میںکرناٹک میں کرناٹک کو بی جے پی ایک بار پھر تجربہ گاہ بناتے ہوئے کام کرنے پر اتر آئی ہے ۔ وقفہ وقفہ سے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں مسلمانوں میں اور دوسری اقلیتوں میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے ۔ پہلے تو بی جے پی کے قائدین اور ارکان پارلیمنٹ تک بھی انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے اشتعال انگیز بیان بازیاں کر رہے ہیں۔ کبھی دستور میں تبدیلی کی بات کی جاتی ہے تو کبھی کوئی اور تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اب مسلم لڑکیوں کو حجاب کے استعمال سے روکنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ کرناٹک کے اڈوپی ضلع میں خاص طور پر مسلم لڑکیوںکو کالجس میںحجاب کے استعمال سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ چند دن قبل چند لڑکیوں کو حجاب استعمال کرنے پر کالج میں داخلہ سے روک دیا گیا تھا اور اب پھر ایک اور کالج میں بھی مسلم لڑکیوںکو حجاب کے ساتھ کالج میں داخلہ سے روکا گیا ہے ۔ یہ چند یوروپی ممالک کی مسلم دشمنی کی روایت رہی تھی جہاں مسلمانوں کے حجاب استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن اب بی جے پی اقتدار میں بھی اسی روش کو اختیار کیا جا رہا ہے ۔ کرناٹک میں کچھ دوسرے بھی ایسے کام ہو رہے ہیں جن کا واحدمقصد اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنا اور فرقہ وارانہ کشیدگی اور منافرت کو مزید فروغ دینا ہے ۔
حجاب کا استعمال ہو یا پسند کے کپڑوں کا استعمال ہو ہر ہندوستانی کا دستوری حق ہے ۔ آزادی کے بعد سے آج تک یہ روایت رہی ہے کہ ہر کوئی اپنی پسند کا لباس ذیب تن کرتے ہیں اور حجاب کو پسند کرنے والی خواتین اسے پہنتی ہیں۔ تاہم حالیہ عرصہ میں جب سے بی جے پی کا سیاسی عروج ہوا ہے اس پر بھی روک لگانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ دوسرے فیصلوںاور اقدامات سے قطع نظر حجاب کے استعمال کا جہاں تک سوال ہے تو یہ مسلم طالبات اور خواتین کی شخصی پسند اور مرضی پر منحصر ہے اور بی جے پی اور اس کی حکومتیںاس حق سے انہیں محروم کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ جس وقت سے ساری دنیا میںکورونا نے تباہی مچائی تھی حکومتیں آج تک بھی مسلسل یہ ہدایات جاری کر رہی ہیں کہ نہ صرف خواتین اور لڑکیاں بلکہ ہر انسان ماسک کا استعمال کرے ۔ حجاب کا جہاں تک سوال ہے غیر مسلم خواتین اور لڑکیاں بھی آج کے ماحول میں حجاب کے استعمال کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ ان میں بھی حجاب کا استعمال عام ہونے لگا ہے ۔ ایسے میں مسلم خواتین اور خاص طورپر تعلیمی اداروںمیں مسلم طالبات کو حجاب کے استعمال سے روکنا محض مسلم دشمنی اورفرقہ وارانہ ذہنیت کا ثبوت ہے ۔ ایسی کوششیں سماج میں یکجہتی اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کی بجائے سماج میں نفرت اوردوریوں کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ ایسی کوششوں سے باز آجانے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی ترقی اور معاشی پیشرفت کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بہت ضروری ہے اوراس پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔
جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے وہ اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ہر طرح کی کوششیںکر رہی ہے اور ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ حکومتیں چاہے کسی بھی جماعت کی ہوں ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دستور کی پابندی کریں۔ دستور میں ہر ایک کو آزادی دی گئی ہے اس کا پورا خیال رکھا جاناچاہئے اور اس کی حفاظت کی جانی چاہئے ‘۔ محض ادنی سے سیاسی فائدہ کیلئے دستوری گنجائش سے کھلواڑ کرنا اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو نشانہ بنانے کی روش کو روکا جانا چاہئے ۔ حکومتوں کو نزاعی مسائل میں الجھنے کی بجائے ملک و قوم کی ترقی پر توجہ کرنی چاہئے ۔ یہی دستوری ذمہ داری ہے اور یہی ہر حکومت کا فریضہ ہونا چاہئے ۔