کورونا سے فوت ہونے والے سونے کے تاجر کی گاؤں والوں نے آخری رسومات انجام دینے سے روک دیا
حیدرآباد :۔ کروڑ پتی ہونے کے باوجود کورونا سے فوت ہونے والے شخص کی آخری خواہش پوری نہیں ہوسکی ۔ گاؤں والوں نے کورونا کے خوف سے آخری رسومات انجام دینے کی اجازت نہیں دی ۔ یہ واقعہ ریاست تلنگانہ کے ضلع ورنگل رورل میں پیش آیا ۔ پرکال کے 48 سالہ سونے کا تاجر کورونا سے متاثر ہو کر ایک ہفتہ تک زندگی اور موت کے درمیان کشمکش میں مبتلا ہو کر بالآخر دم توڑ دیا ۔ تاہم علاج کے دوران اس تاجر نے اپنے ارکان خاندان سے خواہش کی تھی کہ وہ علاج سے صحت یاب نہ ہوئے اور اسی دوران ان کی موت واقع ہوجائے تو ان کی آخری رسومات ریگنٹہ منڈل کے دمنا پیٹ میں واقع شمشان گھاٹ میں انجام دی جائے ۔ ارکان خاندان نے آخری خواہش کے مطابق تاجر کی آخری رسومات کے لیے نعش کو دمنا پیٹ پہونچائی لیکن گاؤں کی سرحد پر ہی گاؤں والوں نے نعش کو روک دیا اور نعش کو آگے لیجانے کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ کورونا سے فوت ہونے والے شخص کی اس گاؤں میں آخری رسومات انجام دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ قبر کھودنے کے لیے جے سی بی ڈرائیورس نے کوئی تعاون نہیں کیا جس سے ارکان خاندان نعش کو لے کر واپس ہوگئے اور پرکال کے نواحی علاقے کے شمشان گھاٹ میں آخری رسومات انجام دی ۔ فوت ہونے والے تاجر کے پرکال شہر میں تین مقامات پر کروڑہا روپیوں کے ہمہ منزلہ عمارتیں ہیں ۔ اس کے زرعی مارکٹ کے روبرو بھی بھاری مالیت کے ملگیات ہیں ۔۔