کوئی دیوانہ چاہے بھی تو لغزش کر نہیں سکتا
ترے کوچے میں پائوں لڑکھڑانا بھول جاتے ہیں
اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں جو واقعہ پیش آیا تھا وہ لاپرواہی سے ڈرائیونگ کا معاملہ نہیں بلکہ کسانوںکو ہلاک کرنے کی ایک منظم سازش تھی ۔ لکھیم پور کھیری میںپیش آئے واقعہ کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ معاملہ لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے کا نہیں ہے بلکہ یہ کسانوں کو ہلاک کرنے کی ایک منظم سازش تھی ۔ اس کیس میںاصل ملزم مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ اجئے کمار مشرا کے فرزند آشیش مشرا کے خلاف مقدمہ کو تبدیل کیا جانا چاہئے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے ۔ اس رپورٹ نے اترپردیش جیسی ریاست میں بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ بی جے پی اور اس کے قائدین کی جانب سے مسلسل یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ یہ اتفاق سے پیش آنے والا واقعہ تھا اور اس واقعہ کے وقت مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ کے فرزند موقع پر موجود ہی نہیں تھے ۔ تاہم اب ایس آئی ٹی کی رپورٹ نے اس جھوٹ کا پردہ فاش کردیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ یہ مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے قتل کی سازش تھی ۔ اس کے علاوہ کم از کم اب اجئے کمار مشرا کو مرکزی کابینہ سے علیحدہ کردیا جانا چاہئے ۔ جس وقت لکھیم پور کھیری کا واقعہ پیش آیا تھا اسی وقت سے اجئے کمار مشرا کو کابینہ سے علیحدہ کرنے کے مطالبات کئے جا رہے تھے ۔ تاہم بی جے پی اور سرکاری حلقوں کا کہنا تھا کہ جب تک الزامات درست ثابت نہیںہوتے اس وقت تک اجئے مشرا کو کابینہ سے علیحدہ نہیں کیا جائیگا ۔ اب جبکہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ ایک منظم سازش تھی اور مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ کے فرزند کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے تو اب کم از کم اجئے کمار مشرا کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور انہیںمرکزی کابینہ سے علیحدہ کردیا جانا چاہئے ۔ خود اجئے کمار مشرا کو اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردینا چاہئے ۔ اجئے کمارمشرا کے ایسا کرنے کی امید کم ہی ہے اس لئے خود وزیراعظم کو چاہئے کہ انہیںکابینہ سے علیحدہ کردیں۔
اجئے کمارمشرا کو کابینہ سے علیحدہ کرنا اس لئے بھی ضروری ہیکہ وہ تحقیقات پر اور آئندہ کی کارروائی پر اپنی وزارت پر فائز رہتے ہوئے اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ آج بھی انہوںنے جیل میں اپنے فرزند سے ملاقات کی تھی اور وہ مسلسل تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ جس وقت لکھیم پورکھیری کا واقعہ پیش آیا تھا اس کے ویڈیوز سارے ملک میں پھیل گئے تھے اورسارے ملک میں برہمی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔ ان ویڈیوز میںیہ دیکھا گیا تھا کہ ایک کار جس کے تعلق سے شبہ ہے کہ وہ خود اجئے کمار مشرا کے فرزندآشیش مشرا چلا رہے تھے ‘ کسانوں پر چڑھ دوڑی ہے اور اس واقعہ اوراس کے بعد پیش آئے تشدد میںجملہ آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ اب تحقیقات اور ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں بھی واضح ہوچکا ہے کہ یہ منظم سازش تھی ۔ اس رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس کی بھی ساری کوششیں بھی بے کار ہوگئیںجو مسلسل کسانوں کو ہی مورد الزام ٹہرانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ تلوے چاٹو اینکروں نے مسلسل کوشش کی تھی کہ اس واقعہ میں کسانوں ہی کا قصور تھا اور انہوںنے ہی سارا کچھ کیا ہے ۔ اب گودی میڈیا کو ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور ان کی ساری کوششیں مرکزی وزیر کے بیٹے کو بچانے کی ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے نتیجہ میں اس حقیقت کو منظر عام پر لانے میں مدد ملی ہے کہ یہ کسانوں کے قتل کی منظم سازش ہی تھی ۔
اس واقعہ میںاترپردیش کی پولیس بھی بے نقاب ہوئی ہے ۔سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کو تیز رفتار تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور تین آئی پی ایس عہدیداروں کو اس کا حصہ بنایا تھا ۔ یہ عہدیدار اترپردیش سے تعلق نہیںرکھتے تھے اور انہیںبعدمیں اترپردیش کیڈر الاٹ کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے بعدخود گودی میڈیا کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے پیشے کے وقار کو مزید کتنا متاثر کرینگے ۔ ساتھ ہی خود بی جے پی کو بھی سوچنے کی ضرورت ہوگی کہ نفرت انگیز مہم کے نتائج کیا کچھ برآمد ہو رہے ہیں۔ سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اجئے کمار مشرا کو مرکزی کابینہ سے علیحدہ کرکے سنجیدگی کا ثبوت دیا جائے ۔
