کوششِ درد کارگر نہ ہوئی
دل بھر آیا پر آنکھ تر نہ ہوئی
بی جے پی حکومتیں ایسا لگتا ہے کہ اقتدار کے نشہ میں دھت ہیں اور کسی بھی مخالفت کو قطعی برداشت کرنے تیار نہیں ہیں۔ ملک میں کسان گذشتہ کئی ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اپنے مطالبات پر وہ حکومت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ تعطل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے آبائی مقامات کو واپس ہو کر زرعی سرگرمیوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن مودی حکومت اور مختلف ریاستوں میں قائم بی جے پی کی حکومتیں بات چیت کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ طاقت کے ذریعہ اس احتجاج کو کچلنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسانوں پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے تو کبھی ان کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ کبھی انہیں کسی طرح سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کوئی اور طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ کبھی انہیں خالصتانی قرار دیا جاتا ہے تو کبھی بیرونی طاقتوں کا آلہ کار قرار دیا جاتا ہے ۔ کبھی انہیں موالی کہا جاتا ہے تو کبھی یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ کسان ہی نہیں ہیں۔ ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا جا رہا ہے لیکن کسانوں کے مطالبات پر بات چیت نہیں کی جا رہی ہے ۔ آج جب کسانوں نے ہریانہ میں کسانوں نے بی جے پی لیڈر کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کیا تو ان کے خلاف بھی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا ۔ انہیں شدید زد و کوب کا نشانہ بنایا گیا اور مارپیٹ کی گئی ۔ بے تحاشہ لاٹھیاں برسائی گئیں۔ اس کے نتیجہ میں تقریبا ایک درجن افراد زحمی ہوگئے ۔ حد تویہ ہے کہ ایک عہدیدار کا ویڈیو بھی وائرل ہوگیا ہے جس میں وہ پولیس اہلکاروں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ احتجاج کرنے والے کسانوں کے سر توڑ دئے جائیں۔ انہیں سروں پر مار کر زخمی کیا جائے ۔ یہ اقتدار کا بیجا استعمال ہے اور سرکاری ملازمت کے قوانین اورا صولوں کے مغائر ہے ۔ اس عہدیدار کو ‘ اس کے رتبے کا خیال کئے بغیر فوری گرفتار کرکے سزا دی جانی چاہئے ۔ یہ عہدیدار اپنی سرکاری ڈیوٹی انجام دینے کی بجائے سیاسی آقاوں کی غلامی کرتا ہوا پایا گیا ہے ۔ اسے اس بات کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ احتجاج کرنے والے کسانوں کو زخمی کرنے کی پولیس کو ہدایت دے ۔ عہدیدار ایسی ہدایت اس وقت تک نہیں دے سکتے جب تک کہ انہیں ایسا کرنے کی سیاسی ہدایت نہ مل جائے ۔
کسانوں کے خلاف طاقت کا استعمال انتہائی شرمناک حرکت ہے ۔ سرکاری سرپرستی میں کسانوں کو نشانہ بنانے کا جو منصوبہ تھا وہ بے نقاب ہوچکا ہے اور اس پر ہریانہ حکومت کو وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہریانہ میں بی جے پی زیر قیادت منوہر لال کھتر حکومت نے کسانوں کے خلاف طاقت کا جو استعمال کیا ہے وہ بھی انتہائی مذموم حرکت ہے اور اس کی وجہ سے ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے ۔ مخالف بی جے پی قائدین اور جماعتوں کی جانب سے تو ایسی حرکتوں کی مذمت کی جا رہی ہے لیکن اب تو خود بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے بھی اس حرکت کی مذمت کی ہے ۔ جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس میں سب ڈیویژنل مجسٹریٹ آیوش سنہا نے پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ کو ہدایت دی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت واضح ہے کہ کسی کو بھی رکاوٹ کے آگے جانے نہیں دیا جانا چاہئے ۔ جو کوئی ایسی کوشش کرے لاٹھی اٹھائے اور اسے پیٹ دیجئے ۔ یہ بہت واضح ہے ۔ اس پر مزید کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف انہیں پیٹ دیجئے ۔ اگر ایک بھی احتجاجی یہاں پہونچے تو اس کا سر زخمی ہونا چاہئے ۔ اس کا سر توڑ دیجئے ۔ ساری ہدایت دینے کے بعد وہ پولیس اہلکاروں سے سوال کرتے ہیں کہ آیا اب بھی کوئی شک ہے ۔ پولیس اہلکار نفی میں جواب دیتے ہیں۔ یہ سارا ویڈیو اب وائرل ہوچکا ہے اور حکومت ہریانہ کو اس پر وضاحت کرنے کی اور اس عہدیدار کے خلاف فوری سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس واقعہ کے خلاف دوسرے اضلاع میں بھی کسان سڑکوں پر اتر آئے اور انہوںنے احتجاج کیا ۔ بی جے پی اور اس کی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ عوامی احتجاج اور کسانوں کے احتجاج کو سمجھے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کسانوں سے بات چیت کرے ۔ ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ صرف طاقت کے بل پر اور پولیس کے سہارے ہر مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہندوستان کی ایسی کوئی روایت رہی ہے ۔ طاقت کا اپنے ہی کسانوں کے خلاف استعمال انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس سے بی جے پی کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ بی جے پی کو اپنی سوچ کو بدلنے اور اپنی روش میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ مسلسل طاقت کا استعمال خود بی جے پی کیلئے بھی مضر ثابت ہوسکتا ہے اور کسانوں کا احتجاج مزید شدت بھی اختیار کرسکتا ہے ۔
تلنگانہ کا سیاسی ماحول
تلنگانہ میں حالانکہ انتخابات کیلئے ابھی کافی وقت ہے لیکن سیاسی سرگرمیوں میں اچانک ہی تیزی اور شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ جہاںٹی آر ایس ریاست میں اپنے اقتدار کی دوسری معیاد پوری کر رہی ہے وہیں کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے اپنے قدم جمانے کیلئے حتی المقدور کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ بی جے پی کا جہاں تک سوال ہے وہ حضورآباد میں ضمنی انتخابات جیتنا چاہتی ہے اورا س کیلئے ایٹالہ راجندر کو پارٹی میںشامل کیا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس بھی کسی بھی قیمت پر اس حلقہ میں کامیابی چاہتی ہے ۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے ریونت ریڈی کے صدر پردیش کانگریس کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ایک نئی جان پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ریونت ریڈی پارٹی صفوں کو متحد کرنے میں بھی لگے ہوئے ہیں اور عوام سے بھی رجوع ہو رہے ہیں۔ کانگریس بھی اپنے طور پر حضور آباد ضمنی انتخاب کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ شعلہ بیان مقرر کونڈا سریکھا کو یہاں سے امیدوار بنایا جاسکتا ہے ۔ اس طرح حضور آباد میں دلچسپ مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے ۔ ہر جماعت حضور آباد انتخابات کے ذریعہ اپنی سیاسی بالادستی کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ٹی آر ایس کیلئے کانگریس اور بی جے پی کی سرگرمیاں درد سر بنتی جا رہی ہیں۔ اب تقریبا ہر روز ٹی آر ایس کو اپوزیشن کی تنقیدوں کا جواب دینا پڑ رہا ہے اور برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں میں لفظی تکرار شروع ہوگئی ہے ۔ کانگریس پارٹی اپنی تنقیدوں کے ذریعہ اپنے وجود کا احساس دلانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور مسلسل جدوجہد کے ذریعہ وہ عوامی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اسے کتنی کامیابی ملے گی ابھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔
