کسانوں کا احتجاج

   

مسافر گُم سہی تاریکیوں میں
سحر بھی بے نشاں ہوجائے گی کیا؟
کسانوں کا احتجاج
نریندر مودی حکومت میں ملک کا ہر طبقہ اور ہر شعبہ عدم اطمینان کا شکار ہے تاہم لوگ حکومت کے خلاف احتجاج سے ممکنہ حد تک گریزاںہیں۔ مختلف شعبہ جات میں اپنے اپنے طور پر احتجاج کیا بھی جا رہا ہے لیکن ایک منظم اور جامع انداز میںاحتجاج سے ابھی تک مودی حکومت بچی ہوئی ہے ۔ کسان برادری ایسی ہے جس نے وقفہ وقفہ سے احتجاج درج کرواتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں کسانوں نے حکومت کی طاقت کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کیا ہے ۔ ان کے خلاف لاٹھیاں برسائی گئیں ‘ آنسو گیس کے شیلس برسائے گئے اور فائرنگ تک کی گئی لیکن سارے ملک کو اناج فراہم کرنے اور پیٹ کی آگ بجھانے والے کسانوں نے اس کی پرواہ کئے بغیرا پنے مفادات اور حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کیا ہے ۔ مدھیہ پردیش میں بھی کسانوں نے منڈسور میں احتجاج کیا تھا جہاں ان پر اس وقت کی شیوراج سنگھ چوہان حکومت نے گولیاں برسائی تھیں۔ اسی طرح چند دن قبل پنجاب میں کسانوں کی جانب سے احتجاج کیا گیاتھا جس میں کانگریس قائدین نے شرکت کی تھی ۔ اب جبکہ نریندرمودی حکومت کی جانب سے زعی قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور اسے اصلاحات کا نام دیا گیا ہے تو پھر کسانوں نے ایک بار پھر احتجاج کا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کی بہتری اور اصلاحات کے نام پرجو قوانین بنا رہی ہے وہ در اصل انہیں کارپوریٹس کا غلام بنانے کی کوشش ہے ۔ ان نئے قوانین کے نتیجہ میں کسانوں کے مفادات بری طرح سے متاثر ہونگے اور جس طرح سے تقریبا ہرشعبہ پر کارپوریٹس نے قبضہ جمالیا ہے اسی طرح سے زرعی شعبہ بھی کارپوریٹس کے رحم و کرم پر چلا جائیگا ۔ کسانوں نے حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ زرعی شعبہ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور اس شعبہ کی بہتری کیلے حقیقی معنوں میںاقدامات کئے جائیں۔ ہمدردی کے نام پر اس شعبہ کو تباہی کے دہانے پر ڈھکیلنے سے گریز کیا جائے ۔ کارپوریٹس کے زیر اثر اور ان کے رحم و کرم پر کام کرنا کسانوں کو پسند نہیں ہے ۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ نریندر مودی حکومت ملک کے تقریبا ہر شعبہ کو مٹھی بھر کارپوریٹس کے حوالے کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے ۔ یہ کارپوریٹس بھی وہ ہیں جو بی جے پی کے حاشیہ بردار ہیں جنہوں نے بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے تقریبا تمام سرکاری کمپنیوں اور اثاثہ جات کو ہڑپ لیا ہے ۔ ملک کے عوام کے سامنے مثال موجود ہے کہ کس طرح سے ملک کی سب سے قدیم اور مستحکم کمپنی بی ایس این ایل کو بتدریج ختم کردیا گیا ۔ اس کی بجائے امبانی کے جیو نیٹ ورک کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بی ایس این ایل اب اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے ۔ اسی طرح ائر انڈیا کو فروخت کرنے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے ۔ ایل آئی سی کو بیجا جا رہا ہے ۔ انڈین ریلویز میں خانگی شعبہ کے داخلہ کا آغاز کردیا گیا ہے اور اب وہ دن دور نہیں جب ہندوستان کی ٹرینس بھی خانگی ہاتھوں میںچلی جائیں گی ۔ ملک کی بندرگاہیں بھی حاشیہ بردار کارپوریٹس کے سپرد کی جا رہی ہیں۔ تقریبا ہر سرکاری ادارہ اور عوامی شعبہ کی کمپنیوںکو عملا ختم کرتے ہوئے خانگی شعبہ کے سپرد کیا جا رہا ہے ۔ ان حالات میں کسانوں کو جو اندیشے ہیں وہ بے بنیاد نہیں ہوسکتے ۔ جس وقت اس شعبہ میں کارپوریٹس کا داخلہ ہوجائیگا ‘ ان کی اجارہ داری بڑھ جائے گی اور ان کے رحم و کرم پر کسان آجائیں گے اس وقت حکومت بھگی کسانوں کو فی الحال دی جانے والی مراعات اور امداد بھی اچانک ختم کرسکتی ہے ۔ ہمارے سامنے پٹرول قیمتوں کا مسئلہ ہے ۔ حکومت کا ان قیمتوں پر اب کوئی کنٹرول نہیں رہ گیا ہے ۔
جس طرح سے مودی حکومت خانگی شعبہ کو تمام سرکاری ادارے سونپتی جا رہی ہے اسی نہج پر حکومت نے زرعی شعبہ کو بھی حاشیہ برداروں کے سپرد کرنے کی پہل کردی ہے اور کسان برادری اس کی شدت کے ساتھ مخالفت کر رہی ہے ۔ کسانوں کا جو احتجاج ہے وہ ان کے اپنے مفادات کیلئے ہے ۔ ان کے اپنے تحفظ کیلئے ہے ۔ حکومت ان کسانوںکے اندیشوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسانوں سے بات چیت کرنے تیار ہے تاہم اب یہ بات چیت محض ضابطہ کی تکمیل ہوگی کیونکہ اگر حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہوتی تو جو قوانین بنائے گئے ہیںان سے پہلے ہی کسانوں سے بات کرتی اور ان کی رائے حاصل کرتی ۔ تاہم حکومت نے ایسا نہیںکیا اور کسانوں کے اندیشے حق بجانب ہیں۔