کسانوں کیلئے مرکز کی پہل

   

Ferty9 Clinic

کیا کیا ترے خیال میں تھیں بے خیالیاں
ہم کو ترے خیال سے فرصت نہ ہوسکی
کسانوں کیلئے مرکز کی پہل
مرکزی حکومت نے شائد پہلی بار کسانوں کے تعلق سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرلی ہے اور پارلیمنٹ میں ان قوانین کی تنسیخ کے بعد اب وزیر داخلہ امیت شاہ نے کسانوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں بات چیت کیلئے بھی مدعو کیا ہے ۔ حکومت نے ایک ذمہ دار کمیٹی سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر کسان تنظیموں نے پانچ ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کرے گی اور اگر حکومت کی سنجیدگی کی وجہ سے ان کے مطالبات کی یکسوئی کی سمت کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو پھر کسان تنظیمیں 7 ڈسمبر کو ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے دہلی کی سرحدات سے اپنے احتجاج کو ختم کرنے کے تعلق سے کوئی فیصلہ کرسکتی ہیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسانوں کے مسائل کی یکسوئی کے ذریعہ صورتحال کو بہتر کرنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ کسان برادری نے جو کچھ بھی مطالبات پیش کئے ہیں ان پر حکومت سے مذاکرات ہی واحد حل تھا اور شائد حکومت کو اب اس بات کا احساس ہونے لگا ہے اسی لئے حکومت نے اور ایک ذمہ دار وزیر نے کسانوں سے رابطہ کرتے ہوئے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ کسان مسلسل یہ کہتے رہے تھے کہ حکومت کے کسی ذمہ دار وزیر کو اختیارات دیتے ہوئے ان کے ساتھ بات چیت کا مجاز بنایا جائے ۔ کسان تنظیمیں ان کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے اپنے موقف سے واقف کروائیں گی اور اگر حکومت ان پر سنجیدہ ہو تو پھر احتجاج ختم کیا جاسکتا ہے ۔ گذشتہ ایک سال سے کسان احتجاج چل رہا ہے اور کسان سرحدات پر بیٹھے ہوئے ہیں تاہم جس طرح سے حکومت نے اس معاملے میں لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور کسانوں اور ان کے مسائل سے چشم پوشی کی تھی اس کو دیکھتے ہوئے یہ امید کم ہو گئی تھی کہ حکومت بات چیت کیلئے آگے آسکتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں قوانین کی تنسیخ سے اتفاق کرنا ہی حکومت کا ایک بڑا قدم تھا ۔ حکومت نے اس تعلق سے پہل کرتے ہوئے توقعات کے برعکس کام کیا تھا ۔ جب یہ بڑا کام ہوچکا ہے تو دوسرے مسائل پر بھی ایسا ہونا چاہئے ۔
کسانوں کا جو مطالبہ ہے کہ ان کی پیداوار کیلئے اقل ترین امدادی قیمت کا قانون بنادیا جائے اور احتجاج کے دوران جو کسان شہید ہوئے ہیں ان کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے اور کسانوں کے خلاف جو مقدمات درج کئے گئے ہیں ان سے دستبرداری اختیار کرلی جائے ۔ کسانوں کے یہ مطالبات غیر واجبی نہیں کہے جاسکتے ۔ حکومت نے جس طرح قوانین کی واپسی کا فیصلہ کیا اور اب بات چیت کیلئے کسان تنظیموں کو مدعو بھی کیا ہے اسی طرح اسے بات چیت میں بھی کسی شرط کے بغیر فراخدلانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسان ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ جملہ گھریلو پیداوار کا بڑا حصہ زرعی سرگرمیوں سے آتا ہے ۔ ملک میں عوام کی اکثریت زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں سے روزگار حاصل کرتی ہے ۔ ایسے میں جب حکومت اپنے قوانین سے دستبرداری اختیار کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ دیگر مطالبات کے تعلق سے بھی اپنے رویہ کو لچکدار اور نرم بنائے ۔ کسانوں کو سیاسی اپوزیشن سمجھنے کی بجائے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے ۔ ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ان کے مسائل کی ہمیشہ کیلئے یکسوئی کی سمت پیشرفت کرے ۔ اقل ترین امدادی قیمت کسانوں کا ایک بنیادی مسئلہ ہے ۔ اس کے ذریعہ کسانو ں کو قدرے طمانیت مل سکتی ہے کہ وہ جو بھی کاشت کریں اس میں انہیں نقصان کا اندیشہ کم رہے گا ۔ اس کے علاوہ مارکٹوں میں اور درمیانی آدمی کی جانب سے ان کا استحصال بھی نہیں ہوگا ۔
ایک سال تک کسان احتجاج کے دوران 750 کسان شہید ہوئے ہیں۔ ان کے لواحقین کو معاوضہ کی ادائیگی میں حکومت پس و پیش کا شکار دکھائی دیتی ہے ۔ پہلے تو حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کسانوں کی اموات کے تعلق سے کوئی اعداد و شمار ہی نہیں ہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا چاہتی ہے ۔ کسانوں کے خلاف جو مقدمات درج کئے گئے ہیں وہ بھی کسی مجرمانہ پس منظر کے حامل نہیں ہیں۔ ان سے دستبرداری بھی ہونی چاہئے جس طرح سیاسی قائدین کے خلاف کی جاتی ہے ۔ اس میں بھی حکومت کو تنگ نظری کا مظاہرہ نہیںکرنا چاہئے ۔
کے سی آر کا مرکزی حکومت سے ٹکراؤ
تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ و چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے حالیہ عرصہ میں مرکزی حکومت سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ وہ دھان کی خریدی کے مسئلہ پر حکومت کے ساتھ مقابلہ آرائی پر اتر آئے ہیں جبکہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ معاہدہ کے مطابق ریاست سے دھان خرید رہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کے سی آر نے حالانکہ دھان کی خریدی کو ایک وجہ کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن وہ مرکزی حکومت سے ٹکراؤ کا راستہ سیاسی وجوہات کی بناء پر اختیار کرنا چاہتے تھے ۔ ابھی یہ لڑائی شدت اختیار کر بھی نہیں پائی تھی کہ ایسا لگتا ہے کہ کے سی آر کے موقف میں تبدیلی بھی آنے لگی ہے ۔ وہ دباؤ بناتے ہوئے مرکزی حکومت سے ایک بار پھر مصالحت کا راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں تاہم اب تک جو آثار و قرائن ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے کے سی آر کی چال کو ناکام بنادیا ہے اور وہ کے سی آر سے دباؤ میں کوئی مصالحتی موقف اختیار کرنے تیار نہیںہے ۔ خاص طور پر حضور آباد ضمنی انتخابی نتیجہ کے بعد بی جے پی نے کے سی آر کو نظرانداز کرنا شروع کردیا ہے ۔