کسانوں کی پیداوار کی خریدی میں سینکڑوں کروڑ روپئے کا اسکام

   

Ferty9 Clinic


ٹی آر ایس قائدین اور عہدیداروں کی ملی بھگت، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ : محمد علی شبیر
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں کسانوںکی پیداوار کی خریدی میں بڑے پیمانہ پر اسکام کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر دعویٰ کر رہے ہیں کہ فصلوں کی خریدی سے حکومت کو 7500 کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ چیف منسٹر کا یہ دعویٰ کئی شبہات کو جنم دیتا ہے ۔ چیف منسٹر دراصل اسکام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اقل ترین امدادی قیمت پر فصلوں کی خریدی کے حق میں نہیں ہے۔ ٹی آر ایس قائدین نے فصلوں کی خریدی من مانی طور پر کرتے ہوئے کسانوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور کروڑہا روپئے کی آمدنی حاصل کی۔ کسانوں سے کم قیمت پر فصلوں کو خریدا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دھان ، مکئی ، جوار ، چنا، مسور کی دال اور سن فلاور جیسی پیداوار کے سلسلہ میں حکومت گمراہ کن بیانات دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریٹیل مارکٹ میں قیمتیں بدستور قائم ہیں لیکن حکومت قیمتوں میں کمی کا استدلال پیش کرتے ہوئے کسانوں کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کسانوں سے خریدی گئی فصلوں کی تفصیلات پر مشتمل وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں اور ٹی آر ایس قائدین کی ملی بھگت سے کئی سو کروڑ روپئے کا اسکام کیا گیا ہے ۔ اعلیٰ سطحی تحقیقات میں حقائق منظر عام پر آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے مرکزی قوانین کے خلاف احتجاج کا ڈرامہ کیا لیکن نئی دہلی دورہ کے بعد اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو کسانوںکی بھلائی سے زیادہ اپنی حکومت کے تحفظ کی فکر ہے۔