حکومت ہند اپنے قانون کے مطابق پالیسی طئے کرنے میں آزاد مگر عوامی بے چینی قابل نظرانداز نہیں
واشنگٹن : سات بااثر امریکی قانون سازوں بشمول ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس کی خاتون رکن پرمیلا جئے پال کے گروپ نے سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے ان سے اپیل کی ہیکہ ہندوستان میں جاری کسانوں کے احتجاج کا مسئلہ اپنے ہندوستانی ہم منصب کے پاس اٹھائے۔ ہندوستان نے کسانوں کے احتجاج پر بیرونی قائدین اور سیاستدانوں کے ریمارکس کو بدخواہی اور غیرضروری قرار دیتے ہوئے ادعا کیا ہیکہ یہ معاملہ ایک جمہوری ملک کے داخلی امور سے تعلق رکھتا ہے۔ وزارت امورخارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو اس ماہ کے اوائل کہہ چکے ہیں کہ بعض کینہ پرور تبصرے دیکھنے میں آئے ہیں جو ہندوستان کے کسانوں سے متعلق ہے۔ اس طرح کے تبصروں کی ضرورت نہیں بالخصوص تب جبکہ یہ ایک جمہوری ملک کے داخلی امور سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے۔ امریکی قانون سازوں نے وزیرخارجہ پومپیو کو اپنے مکتوب مورخہ 23 ڈسمبر میں کہا کہ یہ مسئلہ پنجاب سے جڑے سکھ امریکیوں کیلئے خاص طور پر تشویش کا معاملہ ہے حالانکہ یہ دیگر ہندوستانی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی امریکیوں پر بھی قابل لحاظ اثر ڈالتا ہے۔ کئی ہندوستانی امریکی اس سے راست طور پر متاثر ہیں کیونکہ پنجاب میں ان کے ارکان خاندان رہتے ہیں اور ان کی آبائی اراضیات واقع ہیں۔ وہ ہندوستان میں اپنی فیملیوں کی بہبود کے بارے میں فکرمند ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے مدنظر ہماری آپ (پومپیو) سے اپیل ہیکہ اپنے ہندوستانی ہم منصب سے رابطہ قائم کرتے ہوئے امریکی موقف سے واقف کرائیں کہ بیرون ملک سیاسی اظہارخیال کی بھی آزادی ہے۔ قانون سازوں نے کہا کہ امریکہ ایسی قوم ہے جو سیاسی احتجاجوں سے مانوس ہے اور وہ ہندوستان کو مفید مشورہ دے سکتے ہیں کہ سماجی بے چینی کے جاریہ دور میں کس طرح کا طرزعمل اختیار کرنا چاہئے۔ قومی سطح کے لیجسلیٹرس کی حیثیت سے ہم حکومت ہند کے اس حق کا احترام کرتے ہیں کہ اپنی قومی پالیسی موجودہ قانون کی مطابقت میں طئے کرے۔ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان اور دیگر بیرونی ممالک کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو اندرون ملک پیدا ہونے والی عوامی بے چینی سے نمٹنے کیلئے بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔ ہندوستان میں کافی بڑی تعداد میں کسان تین نئے زرعی قوانین کے خلاف پرامن احتجاج کررہے ہیں۔ یہ بعض گوشوں میں معاشی سلامتی پر حملہ باور کیا جارہا ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور کئی دیگر ریاستوں سے ہزاروں کسان 26 نومبر سے دہلی کی مختلف سرحدوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہی ہیکہ ستمبر میں نافذ کردہ تین زرعی قوانین کو منسوخ کردیا جائے۔ ان قوانین کو مخالف کسان قرار دیتے ہوئے احتجاجیوں کا دعویٰ ہیکہ نئی قانون سازی اقل ترین امدادی قیمت کے سسٹم کو ختم کردینے کی راہ فراہم کرے گی جس کے نتیجہ میں وہ بڑے کارپوریٹ اداروں کے رحم و کرم پر ہوجائیں گے۔ احتجاجیوں کے نمائندوں اور ہندوستانی حکومت کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہوچکے لیکن تعطل جاری ہے۔ پرمیلا جئے پال کے علاوہ مکتوب پر دستخط کرنے والے کانگریسی ارکان ڈونالڈ نارکراس، برنڈن بائل، برائن فٹزپیٹرک، میری اسکانلن، ڈیبی ڈنجل اور ڈیوڈ ٹرون ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران زائد از ایک درجن امریکی کانگریسی ارکان ہندوستان میں کسانوں کے جاریہ احتجاج پر اپنی تشویش اور فکرمندی ظاہر کرچکے ہیں۔