کسانوں کے قرض معافی کیلئے سرکاری خزانے میں 10 ہزار کروڑ روپے دستیاب

   

آمدنی اور اخراجات سے کچھ حد تک بچت، نئے قرض پر انحصار، تین مرحلوں میں قرض معاف کرنے کی منصوبہ بندی

حیدرآباد۔ 10 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس حکومت نے کسانوں کے قرض معافی اسکیم پر عمل کرنے کے لئے اپنی تیاریوں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے 15 اگست سے قبل کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد عہدیداروں کی جانب سے تمام تیاریاں کی جارہی ہیں۔ بالخصوص فنڈس کو اکٹھا کرنے کے لئے مختلف کوششیں کی جارہی ہیں۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار اس جانب خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر بھی اپنی اپنی سطح پر دہلی سے رابطہ بناتے ہوئے کوشش کررہے ہیں۔ ماہ جولائی اور اگست میں مارکٹ سے بھاری قرض حاصل کرنے کی مرکز سے اپیل کرتے ہوئے یہ بھی درخواست کی جارہی ہیکہ اراضیات کو ضمانت کے طور پر پیش کرتے ہوئے حاصل کئے جانے والے قرض کو ایف آر بی ایم کے حدود میں شامل نہ کیا جائے۔ دوسری جانب ماہانہ بجٹ کے قرضے خزانے میں جمع کرائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 10 ہزار کروڑ روپے پہلے ہی قرض معافی اسکیم کے لئے خزانے میں جمع ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہیکہ کسانوں کے قرض معافی کے لئے 31 ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے جس کے تناظر میں حکومت نے فنڈس کی حصولی پر ساری توجہ مرکوزکردی ہے۔ خاص طور پر وہ اپنے پرانے قرضوں کی ادائیگی اور ہر ماہ حاصل کئے جانے والے قرض کو احتیاط سے خرچ کرتے ہوئے رقم کی کافی بچت کی جارہی ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ ریاستی خزانے میں بھی محفوظ رکھا جارہا ہے۔ تاحال 10 ہزار کروڑ سرکاری خزانے میں جمع ہوچکے ہیں۔ اس مالیاتی سال میں حکومت نے اپریل میں 4000 کروڑ مئی میں 4000 کروڑ اور جون میں 5000 کروڑ روپے بطور قرض مارکٹ سے اکٹھا کئے ہیں۔ حکومت نے جولائی اور اگست میں حاصل کئے جانے والے قرضوں سے کچھ رقم قرض معافی اسکیم کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ماہ جولائی میں 6500 کروڑ اور اگست میں 5000 کروڑ روپے کا قرض حاصل کرنے کا ابتدائی منصوبہ بنایا ہے۔ ان 11,500 کروڑ میں حکومت کے اخراجات اور پرانے قرضوں کی ادائیگی سے کافی بچت ہوگی۔ 2 ماہ کے قرضوں میں 2000 کروڑ روپے پہلے ہی لے لئے گئے ہیں۔ اس لئے وہ مرکزی حکومت سے اپیل کررہی ہیکہ اسے ایک ہی وقت میں ماباقی 9500 کروڑ قرض حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ڈپٹی چیف منسٹر ملوبٹی وکرامارک اپنے حالیہ دورے دہلی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس نرملا سیتارامن سے ملاقات کرتے ہوئے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ حکومت قرض معافی اسکیم کے علاوہ دیگر اخراجات کے لئے فنڈس اکٹھا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ حیدرآباد کے مضافات میں سرکاری اراضیات بطور ضمانت خانگی بینکوں میں رہن رکھ کر قرض حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت نے تین مرحلوں میں کسانوں کے قرض معاف کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اندرون ایک لاکھ روپے تک دوسرے مرحلے میں دیڑھ لاکھ روپے تک اور تیسرے مرحلے میں 2 لاکھ روپے تک قرض معاف کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ آئندہ ہفتہ 10 دن میں قرض معافی اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ 2