کسانوں کے مطالبات قبول کرنے حکومت سے مطالبہ

   

ظہیرآباد میں کمیونسٹ پارٹی کی یوم تاسیس تقریب، ڈیویژن سکریٹری کے نرسملو کا خطاب

ظہیرآباد : کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی جانب سے آج پارٹی کا 96واں یوم تاسیس منایا گیا ۔ باگاریڈی پلے ظہیرآباد میں واقع پارٹی آفس پر رسم پرچم کشائی انجام دینے کے بعد ظہیرآباد ڈیویژن سکریٹری کے نرسملو نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت نے اقتدار کے نشے میں چور ہوکر مخالف عوام سیاہ قوانین کا نفاذ عمل میں لاتے ہوئے عوام کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے ، وہیں ریاستی حکومت نے بے گھر غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات اور دلتوں کو تین ایکڑ اراضی تاحال حوالے نہ کرکے بے چینی کی فضاء پیدا کردی ہے ۔ انہوں نے مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاجی اقدام کو درست قرار دیا اور کہا کہ مذکورہ قوانین ، کسانوں کو اپنی پیداوار کے حق فروخت پر کاری ضرب لگاتی ہے ۔ مرکزی حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنے اڑیل پن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سخت ترین سردی کے ماحول
میں اپنی جان جو کھم میں ڈالتے ہوئے احتجاج کرنے والے کسانو ں کے مطالبات قبول کرلے جب کہ ریاستی حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ تعمیر شدہ ڈبل بیڈروم مکانات مستحق بے گھر خاندانوں کو الاٹ کرنے اور دلتو ںکو تین ایکڑ اراضی حوالے کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ اسسٹنٹ سکریٹری سی پی آئی ظہیرآباد ڈیویژن محمد اظہر الدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ گذشتہ 95 سالوں سے سی پی آئی غریبوں ، مظلوموں اور کام کرنے والے مزدوروں کا ساتھ دیتے آرہی ہے جب کہ 26 ڈسمبر کو ہی آنجہانی حسرت موہانی اور آنجہانی بھگت سنگھ سے مجاہدین آزادی نے سیکولرازم کی بقاء کیلئے اس پارٹی کا سنگ بنیاد رکھا تھا لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ آزادی کے 72سال بعد بھی مرکزی حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف امبانی اور اڈانی کی کمپنی قائم کرتے ہوئے کسانوں کو غلام بنائے رکھنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے 65 ویں قومی شاہراہ سے الگول جانے والی بائی پاس روڈ کی خستہ حالت کو جلد دور کرنے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر آل انڈیا تنظیم انصاف کے ضلعی صدر محمد اشفاق حسین ، محمد امجد ، محمد یوسف ، بچیا ، راملو ، ناگ ، دلیپ اور دیگر کے بشمول کارکنوں کی قابل لحاظ تعداد موجود تھی ۔