کسانوں کے مطالبات

   

Ferty9 Clinic

مرکز کی نریندر مودی حکومت نے کسانوں کے ایک اہم مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے تین متنازعہ زرعی قوانین کی تنسیخ کا اعلان کردیا ہے تاہم کسان اب بھی اپنا احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے دیگر مطالبات پر بھی حکومت کے ساتھ بات چیت ہوجائے تاکہ کسانوں کو دوبارہ دہلی کی سرحدات پر جمع ہو کر احتجاج کرنے کی نوبت نہ آنے پائے ۔ کسان لیڈر راکیش سنگھ ٹکیت کا ادعا ہے کہ حکومت کے ساتھ جب 11 ادوار کی بات چیت ہوئی تھی اس وقت اتفاق ہوا تھا کہ دیگر مطالبات پر بات چیت کے علاوہ تینوں زرعی قوانین اور اقل ترین امدادی قیمت کے مسئلہ پر علیحدہ بات چیت ہوگی ۔ دیگر مطالبات پر پیشرفت کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ مطالبات کی یکسوئی کی کوئی راہ نکل آئے ۔ اب جبکہ مرکزی حکومت نے کسانوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کی تنسیخ کا فیصلہ کرلیا ہے اور خود وزیر اعظم نے اس کا اعلان بھی کردیا ہے تو کسان چاہتے ہیں کہ سابقہ اتفاق رائے کے مطابق اقل ترین امدادی قیمت کے مسئلہ پر بھی پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے اور دیگر امور کو قطعیت دینے کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے تاکہ کسان دہلی کی سرحدات پر اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس ہوجائیں اور پھر انہیں دوبارہ احتجاج کیلئے یہاں آنے کی ضرورت محسوس نہ ہو ۔ کسانوں کا موقف واضح دکھائی دیتا ہے ۔ خاص طور پر تینوں قوانین کی تنسیخ کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ تاہم ایک بات ضرور ہے کہ کسانوں کا جو مطالبہ ہے وہ واجبی کہا جاسکتا ہے ۔ بار بار ایک مسئلہ پر الجھنے کی بجائے تمام مسائل کو بیک وقت حل کرنے کی سمت پیشرفت ہو تاکہ وہ احتجاج ختم کرسکیں۔ مرکزی حکومت نے تینوں قوانین کی تنسیخ کا اعلان تو کردیا ہے لیکن ابھی تک کسانوں کے ساتھ بات چیت کیلئے کوئی باضابطہ دعوت نہیں دی گئی ہے ۔ اس پر بھی مرکز کو فراخدلی سے پیشرفت کرنے کی ضرورت ہے ۔
کسان چاہتے ہیں کہ جس طرح تینوں متنازعہ زرعی قوانین پارلیمنٹ میں پاس ہوئے تھے اسی طرح پارلیمنٹ میں ان کو واپس لیا جائے ۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ ہی میں اقل ترین امداد قیمت کا تعین کرنے والا قانون تیار کیا جائے ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی واجبی قیمت ملنی چاہئے ۔ حکومت کوا س معاملے میں بھی فراخدلی دکھانے کی ضرورت ہے ۔ تقریبا ایک سال سے ہزاروں کسان کھیتوں کو چھوڑ کر احتجاج کر رہے ہیں اور اپنے مطالبات کو منوانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی معیشت میں زرعی سرگرمیوں کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔ ملک کی جملہ گھریلو پیداوار میں زراعت کا شعبہ خاطر خواہ حصہ ادا کرتا ہے ۔ ایسے میں حکومت کو کسانوں کے تعلق سے مزید آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ ایک مسئلہ جو بارہا تنازعہ کا سبب بنتا ہے اور کسانوں کیلئے مشکلات پیش آتی ہیں۔ وہ قرض کے بوجھ سے پریشان ہو کر خود کشی تک کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اس مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے حل کرنے کیلئے حکومت کو کسی طرح کی پس و پیش کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ کسانوں کے واجبی مطالبات پر ان سے کھلے دل کے ساتھ کسی شرط کے بغیر بات چیت کرتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسان ایک بار پھر اپنے کھیتوں کو واپس ہوجائیں تو پیداوار میں بھی بہتری پیدا ہوگی اور زرعی سرگرمیوں کی بحالی سے معیشت کو بھی مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ مسئلہ کو زیادہ طوالت دینے سے مرکزی حکومت اور کسان دونوں کو گریز کرنا چاہئے ۔
جہاںکسان چاہتے ہیں کہ ایک بڑا مرحلہ طئے ہونے کے بعد دیگر مراحل کو بھی طئے کرلیا جانا چاہئے وہیں مرکزی حکومت کو بھی اس مسئلہ کو انا کا مسئلہ بنانے سے گریز نہیں ہونا چاہئے ۔ جس طرح وزیر اعظم نے اس مسئلہ پر قوم سے معذرت خواہی کی ہے اسی طرح کسانوں کے ساتھ بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی تشویش کو سننے اور سمجھنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ ان کے ساتھ اچھے ماحول میں بات چیت کرتے ہوئے مسائل کی یکسوئی کیلئے پیشرفت کرنا چاہئے ۔ اقل ترین امدادی قیمت پر کوئی اتفاق رائے ہوجائے تو پھر دیگر امور کو مرحلہ وار انداز میں حل کرنے کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے ۔ دہلی کی سرحدات کا تخلیہ ہوسکتا ہے لیکن اسی کیلئے مرکز کو ہی پہل کرتے ہوئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔