کشمیرکے ایک نوجوان کی 23 سال بعد جیل سے رہائی

,

   

والدین کی قبروں پر پہنچ کر بے اختیار رونے لگا
سرینگر۔26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جب کسی بے قصور انسان کو بے گناہی کی سزاء بھگتنی پڑتی ہے تو وہ اندر سے بری طرح ٹوٹ جاتا ہے۔ کشمیر کے ایک نوجوان کو 23 سال کی سزاء ہوئی تھی لیکن دو دن قبل ہی راجستھان ہائی کورٹ نے 48 سالہ علی بھٹ کو جیل سے رہا کردیا۔ 1996ء کے سملٹی دھماکہ کیس میں اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے بری کئے جانے کے بعد علی بھٹ سرینگر میں اپنے مکان پہنچا اور والدین کی عدم موجودگی پر بے قابو ہوگیا۔ اپنے والدین کی قبروں کے سامنے زاروقطار رونے لگا۔ کارپٹ کی تجارت کرنے والے اس کشمیری نوجوان کو 23 سال تک ناحق سزاء بھگتنی پڑی۔ راجستھان کے سملٹی موضع کے قریب ایک بس میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 14 افراد ہلاک اور دیگر 37 زخمی ہوئے تھے۔ 1996ء سے اب تک اسے جیل کی مصیبتیں برداشت کرنی پڑی۔