کشمیری پنڈتوں کے نام پر سیاست

   

Ferty9 Clinic

اب مصلحت یہی ہے کہ گونگے بنے رہو
کیا چیخنے سے فائدہ بہروں کے سامنے
کسی بھی مسئلہ پر ہوا کھڑا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے میں ماہر بی جے پی کی جانب سے ایسا لگتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کیلئے ابھی سے ماحول تیار کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میںدی کشمیر فائیلس نامی فلم کا سہارا لیا جا رہا ہے اور کشمیری پنڈتوں کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے نام پر بنائی گئی اس فلم میں صرف ایک مخصوص ایجنڈہ کی تکمیل کی کوشش کی گئی ہے اور حقائق کو منظر عام پر لانے کی بجائے انہیں پوشیدہ رکھتے ہوئے اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کی جا رہی ہے ۔ ماحول کو پراگندہ کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور سماج میں جو خلیج پیدا ہو رہی ہے اسے مزید وسعت دینے کے منصوبہ کے تحت کام کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر بی جے پی کے کئی چیف منسٹروں کی جانب سے اس فلم کی تشہیر کی جا رہی ہے ۔ اس کو کئی ریاستوں میں ٹیکس فری کردیا گیا ہے ۔ اس کیلئے عوام کو اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ نفرت کو ہوا دیتے ہوئے اپنے مفادات و مقاصد کی تکمیل کیلئے کام کیا جا رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں کیلئے اب تک بازآباد کاری اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے جو کچھ بھی کیا گیا ہے اس میں بی جے پی کا حصہ صفر ہی ہے ۔ بی جے پی کو مرکز میں اقتدار حاصل کئے ہوئے آٹھ سال ہوگئے ہیں اور اس سے قبل اٹل بہاری واجپائی بھی ملک کے وزیراعظم رہے لیکن اس عرصہ میں پنڈتوں کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ صرف ان کا استحصال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت بنے ہوئے آٹھ سال کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن بی جے پی نے پنڈتوں کی بہتر ی اور ان کی وادی کو واپسی کے مسئلہ پر کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ ایک بھی پنڈت خاندان کو وادی میں واپس لا کر بسانے میں بی جے پی نے کوئی رول ادا نہیں کیا ہے ۔ ان کی کوئی مالی امداد نہیں کی گئی ہے ۔ ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئے بھی کوئی جامع اور ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ اگر کچھ کیا ہے تو صرف ان کا یا ان کی پریشانیوں کا استحصال ہی کیا گیا ہے ۔
جو دعوی کیا جاتا ہے کہ وادی کشمیر سے پنڈتوں کو نکال باہر کیا گیا اس وقت مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت تھی اور اس حکومت کی تائید بی جے پی کر رہی تھی ۔ اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی نے وی پی سنگھ حکومت کی تائید کی تھی ۔ ریاست میں کوئی جمہوری منتخب حکومت نہیں تھی بلکہ مرکز کے مقرر کردہ گورنر تھے ۔ کشمیری پنڈتوں کی مشکلات اور مصائب کیلئے بالواسطہ طور پر بی جے پی کو بھی ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے لیکن آج حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی ہی اس صورتحال کا استحصال کر تے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ صرف پروپگنڈہ اور تشہیر مشنری کے ذریعہ ایسا کیا جا رہا ہے کیونکہ خود کشمیری پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اس فلم میں حقائق کو پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ کئی پنڈت آج بھی کیمرے پر کہہ رہے ہیں کہ مشکل وقت میں مسلمانوں نے ان کی مدد کی تھی ۔ ان کی جانیں بچائی تھیں۔ جب حالات قدرے بہتر ہوئے تو ان کو دوبارہ وہاں بسانے میں مسلمانوں نے اپنا سرگرم رول ادا کیا تھا ۔ اس صورتحال کو فلم میں پیش نہیں کیا گیا ۔ اس کے علاوہ خود حکومت کے کئی اہم و اعلی ترین عہدوں پر فائز افراد کا بھی دعوی ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے حالات کو صرف پروپگنڈہ کیلئے پیش کرتے ہوئے اس کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ یہ پروپگنڈہ فلم ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جموںو کشمیر کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس کو ایک انتخابی حربہ اور تشہیر و پروپگنڈہ کے علاوہ سیاسی استحصال کی کوشش قرار دیا ہے ۔
سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرتے ہوئے سماج میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اگر واقعی حکومت کشمیری پنڈتوں کے معاملہ میں سنجیدہ ہے تو اسے جواب دینا چاہئے کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں اس نے پنڈتوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا کیا ہے ۔ صرف ان کا استحصال کرتے ہوئے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا افسوسناک ہے ۔ اس کے علاوہ حکومتوں کا کام متاثرین کی مدد کرنا ہوتا ہے اور اس معاملے میں موجودہ حکومت ناکام ہوگئی ہے ۔ وہ صرف اپنی ناکامی کی کامیاب انداز میں پردہ پوشی کرتے ہوئے حالات کا محض ایک رخ پیش کرنے والوں کی تائید و حمایت کر رہی ہے ۔ اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ سماج کے تمام طبقات کے تعلق سے حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور کسی کے ساتھ امتیاز برتنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
سابق ارکان اسمبلی کو پنشن
پنجاب میں بھگونت مان کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ابتداء ہی سے مثبت اقدامات شروع کردئے ہیں اور اس میں سیاسی قائدین کو بھی بخشا نہیں جا رہا ہے ۔ مان حکومت نے پہلا حوصلہ مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کو محض ایک معیاد کی پنشن دینے کا فیصلہ کرلیا ہے چاہے وہ دس مرتبہ ہی کیوں نہ اسمبلی کیلئے منتخب کئے ہوں ۔ سابق میں طریقہ کار یہ تھی کہ اگر کوئی رکن اسمبلی تین یا چار مرتبہ منتخب ہوتا اور بعد میں الیکشن ہار جاتا یا انتخابات میں حصہ نہیں لیتا تو اسے تمام معیادوں کیلئے الگ الگ پنشن دی جاتی اور یہ رقم لاکھوں میں شمار ہوتی ۔ کئی قائدین ایسے بھی ہیں جو پہلے رکن اسمبلی بنے اور پھر رکن پارلیمنٹ میں بن گئے ۔ یہ لوگ دونوں کی پنشن حاصل کرتے رہے ہیں جن سے سرکاری خزانہ پر بوجھ عائد ہو رہا تھا ۔ بھگونت مان کی حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کرتے ہوئے کچھ کردکھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور اس کے سیاسی اثرات کی فکر نہیں کی ہے ۔ اس طرح سے ماہانہ کروڑہا روپئے کی بچت ممکن ہوسکتی ہے اور یہی رقم عوامی کاموں کی تکمیل پر صرف کی جاسکتی ہے ۔ ملک کی دوسری ریاستوں کو بھی اس سے متاثر ہوکر ایسے اقدامات کیلئے آگے آنا چاہئے ۔