کشمیر میں سیاحتی شعبے کو بڑا دھچکا، بیشتر ہوٹل بند یا خالی

   

سری نگر، 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں حکومت کی طرف سے 2 اگست کو جاری کی گئی ایڈوائزری اور 5 اگست کو لئے گئے فیصلوں سے پیدا شدہ صورتحال کے نتیجے میں یہاں کے سیاحتی شعبے کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ وادی کے تمام سیاحتی مقامات پر واقع ہوٹل بند یا خالی ہیں اور سری نگر میں سبھی ہاوس بوٹ خالی ہیں۔ وہ افراد جن کی روزی روٹی سیاحتی شعبے پر منحصرہے ، کو شدید مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کی تمام مشہور سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری میں سیاحتی سرگرمیاں 5 اگست سے معطل ہیں۔ ان سیاحتی مقامات پر واقع سبھی ہوٹل اور دکانیں بند ہیں جبکہ ہوٹلوں میں کام کرنے والے ملازمین کی چھٹی کردی گئی ہے ۔ گلمرگ کے ہوٹل مالکان کے ایک گروپ نے بتایا کہ ان کے ہوٹل 5 اگست سے بند ہیں اور انہیں اپنے 90 فیصد ملازمین کی چھٹی کی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اس سال جولائی تک اچھی خاصی تعداد میں سیاحوں نے گلمرگ کا رخ کیا تھا۔ لیکن 2 اگست کو ایڈوائزری جاری ہونے کے ساتھ ہی گلمرگ خالی ہونا شروع ہوا اور 5 اگست تک مکمل طور پر خالی ہوچکا تھا۔ ہمارا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے ، بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔