کشمیر میں فون لائینس کی آج سے بتدریج بحالی ‘ اسکولس کا آئندہ ہفتے احیاء

,

   

آئندہ چند دنوں میں تحدیدات میں مرحلہ وار اور منظم نرمی دئے جانے کا امکان ۔ چیف سکریٹری کی پریس کانفرنس

سرینگر 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں بیشتر فون لائینس کو ہفتہ کے ختم تک بحال کردیا جائیگا اور اسکولس آئندہ ہفتے سے بحال کردئے جائیں گے ۔ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری نے آج یہ اعلان کیا اور کہا کہ یہاں تحدیدات کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں برخواست کیا جائیگا ۔ جموں و کشمیر حکومت کے دفاتر نے وادی میں آج جمعہ کو معمول کے مطابق کام کیا اور کئی دفاتر میں حاضری خاصی اچھی رہی ہے ۔ چیف سکریٹری بی وی پی سبرامنیم نے یہ بات بتائی ۔ انہو ںنے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 5 اگسٹ کو تحدیدات کے نفاذ کے بعد سے انسانی جانوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اور نہ کوئی زخمی ہوا ہے جب جموں وکشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کردیا گیا تھا اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ۔ سبرامنیم نے میڈیا سے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں تحدیدات میں منظم انداز میں نرمی پیدا کردی جائے گی ۔ انہو ںنے کہا کہ جو صورتحال پیدا ہوگی اس کو نظر میں رکھتے ہوئے اور لا اینڈ آرڈر کی برقراری میں عوام کے تعاون کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلے کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی تعطیلات کے بعد اسکولس کو علاقہ کے اعتبار سے کھولا جائیگا تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر ہونے نہ پائے ۔ ٹیلیکام رابطوں کو بھی بتدریج اور مرحلہ وار انداز میں بحال کیا جائیگا کیونکہ یہ بات ذہن نشین رکھی جا رہی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے موبائیل رابطوں کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے اکسایا جاتا ہے ۔ٹیلیفون لائینس کی بحالی کے تعلق سے سوال پر انہوں نے کہا کہ آج رات اور کل سے ہی فون لائینس کو بتدریج بحال کیا جائیگا ۔ کل صبح سے سرینگر کا بڑا حصہ معمول کے مطابق کام کرنے لگے گا ۔

بی ایس این ایل کو معمول کے مطابق کام کاج کی بحالی کیلئے دو گھنٹوں کا وقت درکار ہوگا ۔ ایکسچینج کے بعد ایکسچینج سے خدمات کو بحال کیا جاتا رہے گا ۔ آج رات سے اور کل صبح سے فون کائینس کی بحالی کا عمل شروع ہوجائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ جموںو کشمیر کے 22 کے منجملہ 10 اضلاع میں معمول کے مطابق کام ہو رہا ہے جبکہ پانچ اضلاع میں صرف رات کے وقت معمولی نوعیت کی تحدیدات عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جمعہ کی نماز کیلئے کچھ نرمی دی گئی تھی جس کے بعد ملنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالات معمول کے مطابق اور پرامن ہی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کی کئی طرح کی کوششوں کے باوجود حکام نے کسی طرح کا جانی نقصان ہونے نہیں دیا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاڈیکل گروپس اور پاکستان کی جانب سے صورتحال کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی متواتر کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کے بعد علاقہ میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں ان علاقوں میں عوامی ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت کی اجازت بھی دیدی جائے گی ۔ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران تحدیدات میں نرمی پیدا کی جائے گی اور کشمیر میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہو جائے گی ۔