کشمیر میں مقابلہ کے لیے بی جے پی میں جرات باقی نہیں

   

دفعہ 370 کی تنسیخ کے نام پر ووٹ مانگنے والی پارٹی کا پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ
حیدرآباد۔3 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) ملک بھر میں دفعہ 370 کی کشمیر سے تنسیخ کے نام پر ووٹ مانگنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر میں موجود تین پارلیمانی حلقوں سے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ بی جے پی کشمیر میں موجود کسی بھی پارلیمانی حلقہ سے اپنے امیدوار میدان میں نہیں اتارے گی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتخابات کے اعلان سے قبل اب کی بار 400پار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے 370 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کی تنسیخ کی یاد تازہ کرواتے ہوئے 370 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا تھا اور ملک میں دو مرحلوں کی رائے دہی کی تکمیل کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب کی بار 400 پار کا نعرہ لگانا بند کردیا ہے جبکہ 370 کی جو بات کی جا رہی تھی جس ریاست سے 370 کو برخواست کرتے ہوئے اپنے کارنامہ کے طور پر پیش کیا جا رہاتھا اس ریاست میں کسی بھی نشست سے مقابلہ کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس جرأت باقی نہیں ہے۔ ملک بھر میں اب عوام کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ 370 کی تنسیخ کا سہرا اپنے سر باندھنے اور خود کو چیمپئن قرار دینے والے خود کشمیر سے فرار اختیار کرچکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں جملہ 5 پارلیمانی نشستیں ہیں اور لداخ میں ایک پارلیمانی نشست موجود ہے جن میں کشمیر سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے تینوں نشستوں اننت ناگ۔راجوری ‘ بارہمولہ اور سری نگر سے کسی بھی نشست پر مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جموں کی دو نشستوں جموں اور اودھم پور میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے اسی طرح لداخ میں بھی بی جے پی کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جموں و کشمیر کی تقسیم اور 370 کی تنسیخ کے فیصلہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی اب تک اپنا کارنامہ قرار دیتی رہی بلکہ آرٹیکل 370 فلم تیار کرتے ہوئے اس کے ذریعہ یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے کئی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اس دفعہ کو جو کشمیر اور کشمیری عوام کو خصوصی موقف عطا کرتی تھی اس کو منسوخ کیا ہے لیکن اب جبکہ عام انتخابات کا عمل جاری ہے بھارتیہ جنتا پارٹی پورے ملک میں کشمیر سے اس دفعہ کی تنسیخ کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن کشمیر میں ہی انتخابات میں حصہ نہ لیتے ہوئے یہ ثابت کر رہی ہے کہ کشمیری عوام بھارتیہ جنتا پارٹی کو پسند نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا جائے گا۔3