حافظ صابر پاشاہ
تاریخِ اسلام کے روشن اوراق میں ۱۳ ؍ رجب المرجب وہ مبارک دن ہے جب انسانیت کو وہ ہستی عطا ہوئی جس نے شجاعت، عدالت، علم، زہد، تقویٰ اور فصاحت کو ایک زندہ و جاوید اُسوہ بنا دیا۔ یہ دن امیرالمؤمنین، خلیفۂ رسولِ چہارم، حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت کا دن ہے۔ وہ ولادت جو خانۂ کعبہ کے مقدس حصار میں ہوئی اور جس نے تاریخ کو یہ پیغام دیا کہ یہ شخصیت فقط ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد، ایک مکتب اور ایک میزانِ حق ہے۔حضرت علیؓ اُس خانوادۂ ہاشمی کے چشم و چراغ تھے جسے اللہ تعالیٰ نے شرفِ قربِ مصطفوی عطا فرمایا۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسدؓ نے آپ کا نام حیدر تجویز فرمایا، جو شیر کی علامت ہے، جبکہ والدِ گرامی حضرت ابو طالبؓ نے آپ کا نام علی رکھا، اور یہی نام قیامت تک سربلندی و رفعت کی پہچان بن گیا۔
قدرت کو یہ منظور تھا کہ علیؓ کی پرورش نبوت کی آغوش میں ہو۔ قریش کے قحط کے زمانے میں جب رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت ابو طالبؓ کے گھریلو بوجھ کو ہلکا کرنے کیلئے اُن کے بچوں کی کفالت فرمائی تو علیؓ کو حضور ﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے اس کمسن بچے کو عقل و فراست، شعور و بصیرت اور حق شناسی کے ایسے مدارج تک پہنچا دیا کہ جب دعوتِ نبوت کا آغاز ہوا تو محض چھ یا سات برس کی عمر میں سب سے پہلے لبیک کہنے والا یہی بچہ تھا۔
مولائے کائنات، وہ آفتابِ علم و حکمت ہیں جن کی کرنیں قرآنِ کریم کی آیات کی تہہ در تہہ معنویت کو منور کرتی ہیں۔ آپ کو کتابُ اللہ سے ایسی گہری نسبت اور کامل آگہی حاصل تھی کہ نزولِ قرآن کے اسرار و رموز آپ کے سینۂ مبارک میں محفوظ تھے۔خود حضرت علیؓ کا یہ جلالت آمیز اعلان ہے: ”مجھ سے قرآن کے بارے میں پوچھو، اللہ کی قسم! میں ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازل ہوئی یا دن میں، ہموار زمین پر اُتری یا پہاڑ پر، اور کس کے بارے میں نازل ہوئی“۔حضرت علیؓ کی شخصیت کا ایک روشن پہلو اُن کی بے مثال شجاعت ہے۔ آپ کی جسمانی قوت ضربِ شمشیر سے زیادہ کاری اور آپ کا حوصلہ فولاد سے زیادہ مضبوط تھا۔ میدانِ بدر ہو یا اُحد، خیبر ہو یا خندق ہر معرکہ علیؓ کی جرأت و ہیبت کا گواہ ہے۔ غزوۂ خندق میں عمرو بن عبدود جیسے نامور پہلوان کا انجام اس بات کی دلیل ہے کہ علیؓ کی تلوار فقط بازو کی طاقت نہیں بلکہ ایمان کی قوت سے چلتی تھی۔
شجاعت کے ساتھ ساتھ مولاعلیؓ علم و حکمت کا وہ بحرِ بیکراں تھے جس کی گہرائیوں کا اندازہ زمانہ آج تک نہ کر سکا۔ رسولِ اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ ”میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں“، آپؓ کے مقامِ علمی کا بین ثبوت ہے۔ آپ کے خطبات، مکتوبات اور اقوال کا عظیم ذخیرہ نہج البلاغہ کی صورت میں موجود ہے۔حضرت علیؓ دنیا کو دارِ فناء اور آخرت کو دارِ بقاء قرار دیتے تھے۔ زہد و ورع کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے کہ دنیا عبرت کی نگاہ سے دیکھی جائے تو بینائی عطا کرتی ہے اور حرص کی نظر سے دیکھی جائے تو اندھا کر دیتی ہے۔
۱۳؍ رجب ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ علیؓ فقط تاریخ کا کردار نہیں بلکہ ہر دور کے لیے معیارِ حق ہیں۔ اگر آج کا انسان عدل چاہتا ہے تو علیؓ کو پڑھے، اگر شجاعت درکار ہے تو علیؓ کو سمجھے، اور اگر نجات مطلوب ہے تو علیؓ کے نقشِ قدم پر چلے۔ اللہ پاک حضرت علیؓ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین
