کمال مولا مسجد کیس : سپریم کورٹ میں درخواست پر /29 جولائی کو سماعت

   

دھار، 24 جولائی (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع بھوج شالہ-کمال مولا مسجد احاطے میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے انتظامات کے سلسلے میں انتظامیہ اور مسلم سماج کے نمائندوں کے درمیان جمعرات کی دیر رات ہونے والی میٹنگ کسی اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوگئی۔ اس کے پیشِ نظر جمعہ کے روز شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریباً 350 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے عبوری درخواست کو /29 جولائی کیلئے سماعت پر مقرر کرنے کا حکم دیا ۔بھوج شالا احاطہ، چالیس پیر درگاہ اور شہر کے دیگر حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے ، جبکہ پولیس کی موبائل اور موٹر سائیکل گشتی ٹیمیں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کے صدر عبدالصمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ نے نماز کی ادائیگی کے لیے چالیس پیر علاقے میں جگہ تجویز کی تھی، جو کمال مولا مسجد سے تقریباً دو کلومیٹر دور واقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم فریق نے اس مقام پر اعتراض درج کراتے ہوئے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ایک نئی عرضی بھی پیش کی ہے ۔ عبدالصمد کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت نماز کی ادائیگی کے لیے قریب ترین دستیاب مقام فراہم کیا جانا چاہیے اور اس سے مقدمے کے حتمی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سماج ابتدا ہی سے اپنی ہی زمین پر نماز ادا کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے اور وہ کسی دوسری زمین کا مطالبہ نہیں کر رہا۔