کمیٹی میں شامل ہونے سے ادھیر رنجن چودھری کا انکار

   

ون نیشن ون الیکشن

نئی دہلی :مرکز کی مودی حکومت ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ اس تعلق سے آج ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا جس میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیے جانے سے متعلق اطلاع دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری بھی شامل ہیں، لیکن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد انھوں نے اس کمیٹی سے کنارہ کش ہونے کی بات کہی ہے۔لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کا حصہ بننے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں کانگریس لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے جس کی شرطیں اس کے نتائج کی گیارنٹی کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔خط میں ادھیر رنجن چودھری نے امیت شاہ کو لکھا ہے کہ وزیر داخلہ جی، مجھے ابھی میڈیا کے ذریعہ سے پتہ چلا ہے اور ایک سرکاری نوٹیفکیشن سامنے آیا ہے کہ مجھے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے ایک ساتھ انتخاب کرانے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے۔ مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کرنے میں کوئی جھجک نہیں۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ مجھے لگتا ہے راجیہ سبھا میں موجودہ لیڈر آف اپوزیشن پارٹی کو اس سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ پارلیمانی جمہوریت کے نظام کی قصداً کی گئی بے عزتی ہے۔ ان حالات میں میرے پاس آپ کی دعوت کو نامنظور کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے اسی ماہ اچانک لوک سبھا اجلاس کی طلبی اور کمیٹیاں تشکیل دینے پر اپوزیشن کی جانب سے اعتراض کیا جارہا ہے ۔