منشیات کے سلسلے میں ممبئی کرائم برانچ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز
ممبئی : فلم اداکاررہ کنگنا رناوت کا ممبئی کے علاقہ کھار میں واقع مکان کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے ۔ ان کے آفس کو منہدم کرنے کے بعد برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن ( بی ایم سی) نے کنگنا رناوت کو غیرقانونی مکان کی تعمیر کے سلسلہ میں نوٹس جاری کی ہے ۔ بی ایم سی کے مطابق ان کے پالی ہل میں واقع مکان کے اندر تعمیر کردہ آفس میں بھی کئی بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں ۔ کنگنارناوت کھارویسٹ میں واقع عمارت کی پانچویں منزل میں رہتی ہیں ۔ یہ عمارت بھی غیرقانونی بتائی گئی ہے ۔ اس عمارت میں کنگنا کے تین فلائیٹس ہیں ۔ /9 ستمبر ان کی آفس کو منہدم کیا گیا تھا ۔ بعد ازاں بمبئی ہائیکورٹ نے ان کی آفس کی انہدامی کارروائی پر حکم التواء جاری کیا اور اداکارہ کی درخواست پر جواب داخل کرنے بی ایم سی کو ہدایت دی تھی ۔ بی ایم سی ایک اور نوٹس سیکشن 351 کے تحت جاری کی ہے جس کا 24 گھنٹے کے اندر جواب دینا ہے ۔ کنگنا رناوت نے اپنے وکیل رضوان صدیقی کے ذریعہ بی ایم سی کے نوٹس کا جواب دیا ہے ۔ کنگنا رناوت اُس وقت تنازعہ کا شکار ہوگئی جب انہوں نے شیوسینا کے ایم پی سنجے راوت کی دھمکی کیخلاف ریمارک کرتے ہوئے ٹوئٹر پر متنازعہ بیان لکھا تھا اور ممبئی کو پاک مقبوضہ کشمیر قرار دیا تھا ۔ سنجے راوت نے کنگنا سے کہا تھا کہ اگر انہیں پولیس پر یقین نہیں ہے تو وہ ممبئی واپس نہ آئیں ۔ اسی دوران کنگنا کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر منشیات کے معاملہ میں ملوث کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں ممبئی پولیس کرائم برانچ نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ محکمہ داخلہ سے بھی اس کی توثیق ہوئی ہے ۔ یہ تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کی طرف سے کی جارہی ہے ۔ پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ نے کہا کہ مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کہا تھا کہ ممبئی پولیس ادھیان سمن کے الزامات کی تحقیقات کروائی جائے گی کہ کنگنا رناوت منشیات لیتی ہیں ۔