بہار آتی ہے تو اکثر نشیمن جل ہی جاتے ہیں
مگر گلشن کے جلنے کا سماں کچھ اور ہوتا ہے
گذشتہ چند دنوں سے ملک میں برقی قلت کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ برقی پیداوار کرنے والے پلانٹس کو کوئلہ کی سربراہی میں کمی آئی ہے ۔ ملک کی کم از کم چھ ریاستوں میں صورتحال مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔ پنجاب میں ابھی سے لوڈ شیڈنگ کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ گجرات ‘ ٹاملناڈو ‘ راجستھان اور دہلی بھی اس کی زد میں کسی بھی وقت آنے کا اندیشہ ہے ۔ مرکزی حکومت نے حالانکہ ملک میں کسی بھی طرح کی کوئلہ کی قلت سے انکار کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ملک میں برقی پیداوار والے پلانٹس کو فراہمی کیلئے کوئلہ کے وافر ذخائر موجود ہیں ۔ اس مسئلہ پر پیر کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے وزیر توانائی اور وزیر کوئلہ کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا تھا اور یہ واضح کردیا تھا کہ کسی کو تشویش میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیںہے ۔ آج دفتر وزیر اعظم میں کوئلہ کی قلت کے مسئلہ کا جائزہ لیا گیا اور تمام امور پر باریک بینی سے غور کرنے کے بعد یہ واضح کیا گیا کہ ملک میں آئندہ 22 دنوں کیلئے برقی پلانٹس کو سربراہی کیلئے کوئلہ کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم کچھ گوشوں کی جانب سے یہ اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ برقی کی پیداوار کیلئے کوئلہ کی قلت کو عذر بناتے ہوئے اس شعبہ میں بھی خانگی کمپنیوں کے بے دریغ داخلہ کا راستہ صاف کیا جاسکتا ہے ۔ دفتر وزیر اعظم میں آج جائزہ اجلاس کے بعد واضح کیا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں وزیر اعظم خود شخصی طور پر صورتحال کی نگرانی کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس مسئلہ کا مستقل حل دریافت کرنے کیلئے خانگی ۔ عوامی شراکت کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے تاکہ اس شعبہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو ۔ اس طرح حکومت نے یہ اشارہ ضرور دیدیا ہے کہ برقی شعبہ میں بھی خانگی کمپنیوں کیلئے راستہ صاف ہوسکتا ہے ۔ پہلے ہی برقی شعبہ میں کچھ خانگی کمپنیوں کا داخلہ ہوچکا ہے جو سرکاری شرحوں سے زیادہ شرح پر بجلی سربراہ کر رہی ہیں اور اب مزید کمپنیوں کے داخلہ سے برقی کی شرحوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی ایک طرح سے عوام پر اضافی بوجھ ہوگا جو پہلے ہی پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے پریشان ہیں۔
جو سرکاری ڈاٹا سامنے آیا ہے اس کے مطابق مرکزی حکومت کی نگرانی والے جملہ 135 تھرمل پاور پلانٹس ملک بھر میں قائم ہیں اور ان میں کم از کم 115 ایسے پلانٹس ہیں جنہیںکوئلہ کی سربراہی تشویشناک سے انتہائی تشویشناک حد تک کم ہوگئی ہے ۔ 70 پلانٹس ایسے ہیں جہاں چار دن سے کم وقت تک کیلئے ہی کوئلہ کے ذخائر موجود ہیں ۔ اس طرح حکومت نے یہ بھی اعتراف کرلیا ہے کہ کوئلہ کی سربراہی میں مسائل کا سامنا ہے اور تھرمل پاور اسٹیشنوں کو قلت درپیش ہے اور صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو رہی ہے ۔ حکومت نے اس صورتحال میں برقی پیدا کرنے والے اداروں کو بیرونی ممالک سے کوئلہ کے ذخائر حاصل کرنے پر غور کا مشورہ دیا ہے جس سے کوئلہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا اور اضافی قیمتوں میں کوئلہ کی خریدی کے اثرات بجلی کی شرحوں پر بھی پڑیں گے ۔ اب تک برقی اسٹیشنوں میں اندرون ملک کا کوئلہ استعمال کیا جاتا تھا تاہم حکومت کے نوٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ برقی کی کھپت میں اضافہ کی وجہ سے کوئلہ کی سربراہی کافی نہیں ہو رہی ہے ۔ ایسے میں حکومت اپنی پالیسی تبدیل کر رہی ہے ۔ یہ بھی اشارہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں بجلی کی شرحوں میں ملک بھر میں اضافہ ہوسکتا ہے اور راست یا بالواسطہ طور پر عوام پر ایک بار پھر اضافی بوجھ عائد ہوگا ۔ ملک بھر کے عوام پہلے ہی پٹرولیم اشیا کی قیمتوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور اب بجلی کی شرحوں میں اضافہ سے ان پر مزید بوجھ عائد ہوگا ۔ صنعتی پیداوار کی قیمتوں میں بھی اس کے نتیجہ میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
ابتداء میں حکومت کی جانب سے کوئلہ کی قلت سے انکار کیا گیا اوریہ تیقن دیا گیا کہ تھرمل پاور اسٹیشنوں کو حکومت کی جانب سے درکار مقدار میں کوئلہ سربراہ کیا جا رہا ہے ۔ تاہم اب اچانک صورتحال کے سنگین ہونے اور سپلائی تشویشناک حد تک متاثر ہونے کے اندیشے ظاہر کرتے ہوئے عوام پر بوجھ منتقل کرنے کی تیاریاں پوری ہوچکی ہیںاور اس کیلئے ایک بار پھر خانگی کمپنیوں کو میدان میں اتارا جا رہا ہے ۔ حالات کو بہتر بنانے خانگی کمپنیوں کی مدد سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت سرکاری اداروں کو موثر اور بہتر ڈھنگ سے چلانے میں ناکام ہوتی جا رہی ہے ۔ حکومت کو کسی بھی صورت میں عوام پر مزید بوجھ عائد کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔
