کوئی بھوکا نہ سوئے ،ممبئی کی مسجد سے نئے مشن کا آغاز

   

ممبئی: 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)کہا جاتا ہے کہ ہر شر میں خیر کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے ، اس وقت ساری دنیا ایک چھوٹے سے جرثومہ سے پریشان ہے جس نے پوری دنیا میں کہرام مچا رکھا ہے ۔اور اس کے قہر سے ہر طرف تباہی و بربادی کے نظارے جا بجا دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کروڑں لوگ اپنے گھروں سے دور مختلف دور دارز علاقوں میں پھنسے ہوئے اور کھانے پینے کو محتاج ہو گئے ہیں۔دن بھر محنت مزدوری کر کے شام کو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے والا محنت کش مزدور طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے ۔ کورونا وائرس کے اس شر سے کیا امیر کیا غریب سب پریشان ہیں لیکن اسی شر سے خیر کی نئی روشنیاں بھی پھوٹ رہی ہیں۔ یوں تو دنیا لوگوں کی مدد کرنے ، بھوکوں کو کھانا کھلانے ، علاج معالجہ کرنے اور خدمت خلق کرنے والوں سے کبھی خالی نہیں رہی۔ لیکن اسی کورونا وائرس نے اس سمت میں بھی نئی راہیں دکھائی ہیں۔ لوگوں کے دلوں کو مزید نرم کر دیا۔ انھیں ایک دوسرے کا غمخوار اور ہمدرد بنا دیا۔دوسروں کی پریشانی، غریبوں کی بھوک اور پیاس کے احساس کو لوگ باگ پہلے سے زیادہ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اور اس وقت ہر کوئی دامے درمے اور سخنے پریشان حالوں کی مدد کرنے کو اپنی سعادت سمجھ رہا ہے ۔ یہی ہے وہ خیر کا پہلو جو اب ہر طرف پھیل رہا ہے ۔ممبئی کی ایک مسجد سے بھی ایسی ہی روشنی کی ایک نئی کرن پھوٹی ہے ۔ اور ‘ کوئی بھوکا نہ سوئے ‘ اس مشن کا آغاز کیا گیا ہے ۔