کواڈ سمٹ کے ایجنڈہ میں بحیرہ ہند سیکوریٹی تعاون میں اضافہ اہم ترین موضوع

   

سمٹ سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن کا ریاست ڈیلاویئر کا دورہ اور غیرقانونی چینی ماہی گیری پر بات چیت
واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن آسٹریلیا، ہندوستان اور جاپان کے رہنماؤں کا امریکی ریاست ڈیلاویئر میں خیرمقدم کریں گے۔ کواڈ کی میٹنگ میں کل یہ رہنما چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف سفارتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر بائیڈن کواڈ رہنماؤں کی سمٹ سے قبل ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن گئے، جہاں کواڈ کے رہنما بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان تنازعہ کے بارے میں بات چیت کی۔ سمٹ کے ایجنڈہ میں بحیرہ ہند میں سکیورٹی تعاون کو بڑھانا اور انڈوپیسیفک کے پانیوں میں سرگرم غیر قانونی ماہی گیری کے بحری بیڑوں، جن میں سے زیادہ تر چینی ہیں، کو ٹریک کرنے میں پیش رفت شامل ہیں۔صدر بائیڈن 5 نومبر کے انتخابات کے بعد عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے والے ہیں۔ امسالہ صدارتی مقابلہ ان کی نائب صدر کملا ہیریس اور ریپبلکن ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ہے۔ ٹرمپ کواڈ اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔یہ ایک واضح سوال ہے کہ کیا بائیڈن کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد بھی کواڈ گروپ باقی رہ سکے گا۔ اگر ٹرمپ جیت گئے، تو وہ اگلے سال وائٹ ہاوس میں ہوں گے جب کہ جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا بھی اگلے ماہ اپنے عہدہ سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہاکہ آپ کو اس میٹنگ کے دوران بہت سے مختلف امور اور باتیں دیکھنے کو ملیں گے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ کواڈ ایک دو طرفہ ادارہ ہے، جو باقی رہے گا ۔بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہاکہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ یہ ایک ایسی شراکت داری ہے، جو اگرچہ چین کے خلاف نہیں ہے، لیکن چین کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔سابق امریکی انتظامیہ کی ایک اہلکار اور سینٹر فار نیو امریکن سکیورٹی میں ایشیا سے متعلق پالیسی کی ماہر لیزا کرٹس کے مطابق، ”کواڈ بحری سکیورٹی کا نیا اقدام چین کو ایک بہت مضبوط اشارہ بھیجے گا، کہ اس کی سمندری ‘غنڈہ گردی‘ ناقابل قبول ہے، اور یہ کہ اس اتحاد کے ہم خیال ممالک کی طرف سے مربوط کارروائی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔‘‘چین کے صدر شی جن پنگ کواڈ پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ وہ اسے بیجنگ کو گھیرنے اور تنازعات کو بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔بیجنگ تقریباً پورے جنوبی بحیرہ چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے، جس میں فلپائن، برونائی، ملائیشیا اور ویتنام کے خصوصی اقتصادی زون کے علاقے بھی شامل ہے۔ بیجنگ مشرقی بحیرہ چین کے ان علاقوں پر بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، جنہیں جاپان اور تائیوان اپنا قرار دیتے ہیں۔ چین خود مختار تائیوان کو بھی اپنا علیحدگی پسند صوبہ سمجھتا ہے۔جو بائیڈن نے اپنے اختلافات کو تصادم میں بدلے بغیر چین کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور وہ جلد ہی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوبارہ بات کرنے والے ہیں۔ لیکن چین کے ساتھ تعلقات پر توجہ مرکوز کرنے کی ان کی خواہش مشرق وسطیٰ میں تنازعات اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے ماند پڑ گئی ہے۔