کورونا سے بچاؤ کیلئے ڈبل ماسک کا استعمال ، ماہرین کا مشورہ

   

ہر 6 گھنٹے میں ماسک کی تبدیلی، وائرس کی منتقلی میں شدت

حیدرآباد: ملک میں کورونا وباء کے تیزی سے پھیلاؤ سے فکرمند ماہرین نے عوام کو کورونا سے بچاؤ کے سلسلہ میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل آوری کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت نے جو گائیڈ لائینس جاری کی ہیں، اس پر عمل آوری ماہرین کے مطابق کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو موجودہ وائرس سے بچاؤ کے لئے حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ بنگلور کے سائنسی تحقیقی ادارے نے دوسری لہر کے وائرس کے پھیلاؤ پر تحقیق کے ذریعہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کیلئے عوام کو ڈبل ماسک کا استعمال کرنا چاہئے ۔ صرف ایک ماسک کے استعمال سے وائرس سے مکمل تحفظ ممکن نہیں ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ ماسک کے استعمال کے سلسلہ میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ 6 گھنٹے بعد ماسک کو مکمل طور پر سینیائز کیا جائے یا پھر اسے تبدیل کردیا جائے ۔ ایک ماسک کو 24 گھنٹے سے زیادہ استعمال کرنا اس کے اثر کو زائل کرنے کے مترادف ہے اور صحت کیلئے بھی یہ ٹھیک نہیں ۔ ماہرین کے مطابق ماسک سے وائرس کا بچاو ممکن ہے اور اس کے زیادہ استعمال سے ماسک سے ربط میں آنے والے وائرس کے ذرات جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔ عالمی سطح کی تنظیموں اور طبی ماہرین نے بھی ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں ڈبل ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے ۔ ڈاکٹرس بھی مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والے افراد کو ڈبل ماسک کے استعمال کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ماہرین نے روزانہ کیسیس کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر تحدیدات اور نائیٹ کرفیو کے بجائے مکمل لاک ڈاؤن کا مشورہ بھی دیا ہے ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کاٹن ماسک اور سرجیکل ماسک کے علاوہ این 95 ماسک کے استعمال کی صورت میں ڈبل ماسک وائرس سے بچاؤ کیلئے مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وائرس ایک شخص سے دوسرے میں تیزی کے ساتھ سرائیت کرتا ہے ، لہذا کورونا کا شکار مریض اور صحت مند افراد دونوں کیلئے ماسک کا استعمال بہتر رہے گا۔ ماہرین نے کہا کہ اگر کوئی غیر علامتی مریض ہو اور وہ عوام کے درمیان کھلے عام گھوم رہا ہو تو یہ دوسروں کیلئے نقصان دہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہر 6 گھنٹے کے وقفہ سے ماسک کو سنیٹائز کرنے یا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا سے بچاؤ کے لئے گائیڈ لائینس میں تبدیلی کرے۔