کورونا وائرس :تمام مذاہب کے رسوم و رواج کی ادائیگی متاثر

   

Ferty9 Clinic

ملاقات کے وقت مصافحہ اور معانقہ سے گریز ،لوگمعمولات اور طور طریقے تبدیل کرنے پر مجبور
کیا عبادت کرنے کے روایتی طریقہ میں تبدیلی روح کو تسکین پہنچا سکتی ہے؟

ریاض ، واشنگٹن ، بیجنگ ۔ 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کورونا وائرس سے پھیلنے والی ہلاکت خیز وبا پر عالمی سطح پر بھڑتی ہوئی تفتیش کے پیش نظر دنیا بھر میں لوگ اپنے معمولات اور طور طریقے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔بہت سے لوگ ہجوم یا عوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے سفر کرنے کے ارادے منسوخ کر دیے ہیں۔ کئی جگہوں پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت ہاتھ ملانے یا بغل گیر ہونے کے بجائے کہنیو سے کہنیاں یا پیروں سے پیر ٹکرانے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ وائرس کو ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے سے روکنے کے لیے گرجا گھروں، مندروں، مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کے روایتی طریقوں اور مذہبی رسومات کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔لیکن عبادت کرنے کے روایتی طریقے تبدیل کرنے سے کیا روح کو تسکین دی جا سکتی ہے؟مکہ میں مسلمانوں کی مقدس ترین عبادت گاہ خانہ کعبہ میں جو ہزاروں عقیدتمندوں سے ہروقت کھچا کھچ بھرا رہتا تھا وہاں آنے والوں کی تعداد میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین کے لیے صحن کعبہ کو عارضی طور پر طواف کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ مطاف کی صفائی اورجراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے بعد کھول دیا گیا ہے لیکن حرم کعبہ کے اردگرد ایک عارضی باڑ لگا دی گئی ہے تاکہ لوگ اس کو چھونے کی کوشش نہ کریں۔مکہ اور مدینہ دونوں مقدس مقامات بیرونی دنیا سے آنے والے زائرین کے لیے تاحال بند ہیں۔دنیا بھر سے سعودی عرب آنے والے مسلمان زائرین عمرہ سال کے کسی بھی حصے میں ادا کر سکتے ہیں جبکہ فریضہ حج صرف اسلامی کیلینڈر کے مہینے ذی الحجہ میں ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ہر سال اسی لاکھ افراد عمرہ کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔نائجیریا میں حج اور عمرہ کی سہولیات فراہم کرنے والے ایک ٹریول ایجنسی کی مالک ایک خاتون خدیجہ تانیمو دانو کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زائرین پر پابندی پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ افسردہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمرہ کی سعادت ہر کوئی حاصل کرنا چاہتا ہے۔انھوں نے کہا کہ شاید اس صورت حال سے صرف عمرہ ہی متاثرہ نہ ہو۔انھوں نے کہا بہت سے لوگوں کو اس بارے میں تشویش ہے کہ اگر یہ پابندی رمضان اور حج کے مہینے تک بڑھا دی گئی تو کیا ہو گا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے لیکن اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ یہ کب تک جاری رہے گی۔لیکن بہت سی عبادات ایسی ہیں کہ یہ وبا کے پھیلنے کے خدشات کے باوجود جاری رہیں گی۔