آشوب چشم ، دست و قئے ، سردی ، کھانسی ، زکام اور بخار ، احتیاط برتنے ڈاکٹر صمصام علی خرم کا مشورہ
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران ریاست میں بچوں کے متاثر ہونے کے واقعات بہت کم رہے اور مجموعی اعتبار سے 10 فیصد سے بھی کم بچے سال گذشتہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے لیکن کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران بچوں کی بڑی تعداد کورونا وائرس سے متاثر ہونے لگی ہے اور اب تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تودوسری لہر کے دوران 25 فیصد مریض بچے ہیں جن کی عمریں 8 سے 14 سال کے درمیان ہے۔ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران جن مریضوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے ان میں بچوں کی تعداد نے بھی ڈاکٹرس کو تشویش میں مبتلاء کیا ہوا ہے اور کہا جار ہاہے بچوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کا فوری آغاز کیا جانا چاہئے ۔ماہرین نے بتایا کہ بچوں میں وائرس کی علامات آشوب چشم‘ دست و قئے کے علاوہ سردی ‘ کھانسی اور بخار کے طور پر پائے جانے لگے ہیں۔ماہرین امراض اطفال ڈاکٹر صمصام علی خرم شاداں ہاسپٹل اینڈ گروپ آف میڈیکل کالجس نے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ بچوں میں گلے میں خراش اور زکام سے علامات ظاہر ہورہی ہیں اور ان علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری علاج کروانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ بچوں میں کسی قسم کی سنگین بیماریاں جیسے ذیابیطس‘ بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں نہ ہونے کے سبب کورونا وائرس کا علاج ان کا 10 یوم کے دوران ہونے لگا ہے لیکن اگر نظرانداز کیاجاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے بھی پھیپڑے تیزی سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ڈاکٹرصمصام علی خرم نے بتایا کہ بچوں کو بخار‘ نزلہ ‘ زکام اور دست و قئے کی صورت میں علاج کروانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ وہ اگر کورونا وائرس کے مریض ہیں تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی لیکن وہ دوسروں کو کورونا وائرس کا مریض بنا سکتے ہیںاسی لئے احتیاط کیا جانا لازمی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ بچوں میں کورونا وائرس کی صورت میں ان کے سی آر ٹی میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے لیکن اس کے باوجود وہ قابل علاج ہے۔ڈاکٹر صمصام علی خرم نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو سرد غذاؤں سے دور رکھنے کے علاوہ انہیں صحت مند غذاء کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور بچوں کوباہر لیجانے سے احتیاط کرنے کے علاوہ انہیں صاف صفائی کی تلقین کریں تاکہ وہ کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری کا شکار نہ ہوں اور دوسری لہر کے دوران جس رفتار سے بچے متاثر ہورہے ہیں اس کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں بچوں کے آزادانہ میل جول اور احتیاط کے بغیر ملاقاتوں کی وجہ سے بھی یہ بیماری پھیل رہی ہے ۔